شگفتہ جمانی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس

عدالتی حکم پر نئے اور پرانے ٹوور آپریٹرز کی فہرست کو حتمی شکل دینے کیلئے قائم کمیٹی نے 1100 نئی اور 48 پرانی کمپنیوں کو حج آپریشن سے نکالنے کی سفارش کی ہے، کمپنیوں کو 28 اپریل تک شکایات درج کرانے کا وقت دیا گیا ہے ،کسی کمپنی کی جانب سے نئی دستاویز قبول نہیں کی جائے گی، وزارت مذہبی امورکی بریفنگ کمیٹی کی سرکاری حج سکیم کے باقی کوٹے کی جلد از جلد قرعہ اندازی کر کے لوگوں کو انتظار کی کوفت سے نجات دلانے کی ہدایت قومی کمیشن اقلیتی امور سوشل میڈیا پر ہندوؤں کے بھگوان کی مورتی پر عمران خان کی تصویر لگانے کے معاملے کا نوٹس لیکر ذمہ داروں کا تعین کرے، ہدایت

پیر اپریل 17:57

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کو بتایا گیا ہے کہ عدالتی حکم پر نئے اور پرانے ٹور آپریٹرز کی فہرست کو حتمی شکل دینے کیلئے قائمہ کمیٹی نے 1100 نئی اور 48 پرانی کمپنیوں کو حج آپریشن سے نکالنے کی سفارش کی ہے، ان کمپنیوں کو 28 اپریل تک شکایات درج کرانے کا وقت دیا گیا ہے تاہم کسی کمپنی کی جانب سے کوئی نئی دستاویز اس مرحلے پر قبول نہیں کی جائیگی جبکہ قائمہ کمیٹی نے وزارت مذہبی امور کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری حج سکیم کے باقی کوٹے کی جلدازجلد قرعہ اندازی کرکے لوگوں کو انتظار کی کوفت سے نجات دلائی جائے۔

پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرپرسن شگفتہ جمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں کمیٹی اراکین کرن حیدر، لال چند ملہی، رمیش لعل، مولوی آغا محمد، شاہدہ اختر علی سمیت وزیر مملکت پیر امین الحسنات شاہ اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اقلیتی ارکان اسمبلی نے سوشل میڈیا پر ہندوؤں کے بھگوان کی مورتی پر عمران خان کی تصویر لگانے کے معاملے پر شدید احتجاج کیا۔

رمیش لعل نے کہا کہ اس سے ہماری دل آزاری ہوئی ہے، کمیٹی کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود نے کہا کہ قومی کمیشن برائے اقلیتی امور اس کا نوٹس لے سکتا ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی شگفتہ جمانی نے ہدایت کی کہ قومی کمیشن برائے اقلیتی امور اس معاملے کا فی الفور نوٹس لے اور اگر سائبر کرائم ونگ کی مدد لینی پڑے تو لے کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

شاہدہ اختر علی نے کہا کہ قومی کمیشن برائے اقلیتوں کا وجود الگ رکھا جائے اور ان کا الگ دفتر ہونا چاہئے۔ اجلاس میں کمیٹی کے گذشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ گوالمنڈی راولپنڈی میں سوامی مندر کو مبینہ طور پر ختم کرکے الاٹمنٹ کرنے کے معاملے پر کمیٹی کے ارکان کے احتجاج پر فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی 28 اپریل کو گوالمنڈی راولپنڈی میں سوامی نرائن مندر کی جگہ کا معائنہ کرے گی۔

چیئرپرسن شگفتہ جمانی نے کہا کہ کمیٹیاں بنا کر اور کمیشن قائم کرکے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور پیر امین الحسنات شاہ نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ چیئرمین کے چل رہا ہے، اس ادارے کے چیئرمین کیلئے کمیٹی اپنا کردار ادا کرے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ فی الفور متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا جائے۔ شگفتہ جمانی نے کہا کہ اقلیتوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔

کمیٹی نے تجویز دی کہ اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے وزیر مملکت برائے مذہبی امور کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چکوال میں سیمنٹ فیکٹری کٹاس راج سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ سیکرٹری متروکہ وقف املاک نے کہا کہ قانون کے مطابق ہم اس معاملے میں مداخلت نہیں کر سکتے، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیرسماعت ہے۔ وزارت مذہبی امور کی طرف سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد حج ایڈوائزری کمیٹی فعال نہیں رہے گی۔

ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ نئے حج ٹور آپریٹرز کو حج آپریشن میں شامل کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے حکم پر وزیر مملکت برائے مذہبی امور کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی جس کے بعد پیپرا رولز کے بعد چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کے ذریعے نئی اور پرانی کمپنیوں کا جائزہ لیا گیا۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم نے 10 اپریل کو رپورٹ وزارت مذہبی امور کو پیش کی۔

13 اپریل کو ہم نے رپورٹ ویب سائٹ پر ڈال دی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ہم نے شکایات کے ازالے کیلئے 28 اپریل تک کا وقت دیا ہے، 70 فیصد شکایات موصول ہو چکی ہیں اور اپیلوں کی سماعت شروع کر دی گئی ہے۔ شگفتہ جمانی نے کہا کہ اب بھی بہت سے خدشات ہیں جن کی وجہ سے وزارت مذہبی امور کو شکایات کے ازالے کیلئے کمیٹی قائم کرنا پڑی۔ پیرزادہ عمران احمد شاہ نے کہا کہ اگر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم نے معاملات درست انداز میں انجام دیئے ہوتے تو یہ کمیٹی قائم کرنے کی نوبت نہ آتی۔

سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ اٹارنی جنرل، مسابقتی کمیشن، لاء ڈویژن اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وزیر مملکت برائے مذہبی امور نے کمیٹی کے سربراہ کے طور پر کسی کی سفارش سنے بغیر میرٹ پر کام نمٹایا اور شفاف انداز میں امور سرانجام دیئے۔ ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور نے کمیٹی کے استفسار پر بتایا کہ کمیٹی نے 700 نئی کمپنیوں اور 44 حج گروپ آرگنائزرز کو حج آپریشن کیلئے نااہل قرار دیا ہے۔

کمپنیوں کا انتخاب مجوزہ طریقہ کار کے مطابق کیا گیا ہے۔ شکایات کمیٹی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کو بھی یہ اعدادوشمار بھجوائے گی، ان سے ان کمپنیوں کے نمبرز لگانے کیلئے کہا جائے گا۔ تمام کمپنیوں پر لازم تھا کہ وہ گذشتہ تین سالوں کی آڈٹ رپورٹ جمع کرانے کی پابند ہیں۔ پیر امین الحسنات شاہ نے کہا کہ حج کے معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کیلئے ہم نے حج آپریشن ڈیڑھ ماہ قبل شروع کیا، اس پر بھی ہم پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، بدقسمتی سے حسن ظن نہیں رہا۔

کمیٹی کی چیئرپرسن نے حج انتظامات کے حوالے سے وزارت مذہبی امور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم چیئرپرسن اور دیگر ارکان نے کہا کہ ہمیں کسی کی نیت پر شک نہیں تاہم کالی بھیڑیں ہر جگہ موجود ہوتی ہیں، حج انتظامات کو بہتر سے بہتر انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ عبدالغفار ڈوگر نے کہا کہ حج کے معاملے کو ہر قسم کی سیاست اور مالی مفادات سے پاک رکھا جائے۔

سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود چوہدری نے کہا کہ حج کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہر 15 دن بعد رپورٹ بھجوائی جاتی ہے، شکایات کمیٹی کا کام صرف شکایات سننا ہے، جو کمپنیاں تین مرتبہ وقت دینے پر بھی دستاویزات جمع نہیں کرا سکیں اب ان کی کوئی نئی دستاویزات نہیں لی جا سکتیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ باقی رہ جانے والے کوٹے کی جلدازجلد قرعہ اندازی کی جائے کیونکہ درخواست گزاروں کو شدت سے انتظار ہے۔