بلوچستان یونیورسٹی صوبے کی سب سے قدیم درسگاہ ہے صوبے کے مختلف علاقوں میں یونیورسٹی سب کیمپسز قائم کئے گئے ہیں،وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال

پیر اپریل 18:04

کوئٹہ ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان صوبے کا سب سے قدیم درسگاہ ہے جو 1970سے صوبے کے اعلیٰ تعلیم کے لئے کوشاں ہیں جس کی اساتذہ کی اکثریت بین الاقوامی اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ڈائریکٹویٹ اور ایم فل کے حامل ہیںجس میں ہزاروں طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا کی جاتی ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں میں یونیورسٹی سب کیمپسز قائم کئے گئے ہیں اور جامعہ کے ملکی و بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلباء وطالبات کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

وفد نے جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال سے ملاقات کی جس میں اسلام آباد،، لاہور اور صوبائی جامعات اور کالجز کے سینئر اساتذہ اور نمائندگان بھی شامل تھے۔

(جاری ہے)

وفد کو جامعہ بلوچستان کے تعلیمی، تحقیقی سرگرمیوں، مستقبل کے تعلیمی پروگرامز اور ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف تعلیمی معاملات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وائس چانسلر نے تمام طلباء و طالبات کو جامعہ بلوچستان کے دورے پر خوش آمد کہتے ہوئے کہا کہ یہ خوشی کا باعث ہے کہ ملک بھر کے طلبہ ایک ساتھ جامعہ بلوچستان میں اکھٹے ہوئے ہیں جو ملکی یکجہتی کو واضع کرتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے زبانوں، ثقافت کو جاننے اور بھائی چارگی کوفروغ دیتی ہے کیونکہ کسی بھی ملک اور معاشرے کی ترقی ان کو نوجوان نسل سے وابسطہ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوتھ موبلائزیشن کیمپین کی شروعات جامعہ بلوچستان نے 2015میں کی تھی جو آج پورے ملک میں پروان چڑھ رہی ہے۔ طلبہ مختلف صوبوں اور تعلیمی اداروں کے دورے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے زبان، ثقافت، روایات کو جاننے اور محبت اور یکجہتی کو فروغ دے رہے ہیں جو انتہائی خوش آئند اقدام ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہنا چائیے۔ طلبہ وفد نے جامعہ کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ مین لائبریری و باٹنیکل گارڈن، ملٹی پرپرس ہال کا بھی جائزہ لیا۔ وائس چانسلر کا شکریہ ادا کیا اور جامعہ کے تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا۔