خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے زیر اہمتام تین روزہ بین الاقوامی میڈیکل ایجوکیشن کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی

پیر اپریل 18:14

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وطن عزیز میں صحت کے مسائل سے نمٹنے اور صحت کا نظام عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیئے ہمیں وژن2050کے تحت ملک بھر میں 300میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اور50طبی جامعات کے اہداف طے کر کے ان کے حصول کو اگلے تیس سالوں میں ممکن بنانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے زیر اہمتام منعقدہ تین روزہ چھٹی بین الاقوامی میڈیکل ایجوکیشن کانفرنس کے اختتامی سیشن سے سے مختلف ماہرین نے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔

واضح رہے کہ آخری سیشن کے مہمان خصوصی کے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد دائود خان تھے جب کہ اس موقع پر کے ایم یو کے موجودہ وی سی پروفیسر ڈاکٹر ارشد جاوید ،مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کے پرنسپل صاحبان،فیکلٹی اور طلباء وطالبات کے علاوہ ملک کے مختلف طبی اداروں سے آئے ہوئے ماہرین طب کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

(جاری ہے)

آخری دن ہونے والے پیرالل اور اورل سیشنز کے علاوہ پاکستان ایکریڈیٹیشن سسٹم اینڈ سسٹم فار میڈیکل ایجوکیشن کے موضوع پر ایک فوکس گروپ ڈسکشن بھی منعقد کیا گیا جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ممتاز ماہرین نے وطن عزیز میں صحت کے مختلف مسائل اور خصوصاً طبی تعلیم کے شعبے میں درپیش مسائل اور چیلنجز پر سیر حاصل گفتگو کی۔ماہرین کا کہا نا تھا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں اصلاحات وقت کا تقاضہ ہے اور اس ضمن میں پی ایم ڈی سی کو روایات سے ہٹ کر بعض انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے ذیلی ادارے میڈیکل ایجوکیشن کے گائیڈ لائینز کی روشنی میں ہمیں نہ صرف اپنے طبی نصاب میں اصلاحات کرنی ہوں گی بلکہ طبی طریقہ تدریس میں بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نظام اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو صرف ریگولیرٹی کردار کی بجائے نصاب اور تدریس کے شعبوں میں بھی اصلاحات متعارف کرانے کے لیئے بعض ناگزیر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

دریں اثناء اختتامی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسرڈاکٹر محمد دائودخان نے کہا کہ طبی تدریس کے عمل کے دوران ہمارا اصل ہدف طلباء اور طالبات ہونے چاہئیں جب کہ صحت کے نظام کی اصلاح پر بات کرتے ہوئے ہماری تمام تر توجہ کا مرکز اورمحورمریض ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ اس وقت صحت کی سہولیات کی فراہمی اور طبی تعلیم کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے۔

پروفیسر ڈاکٹر دائودخان نے کہا کہ طبی تعلیم اور صحت کے نظام کا آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہونا نہ صرف ہماری اپنی ضرورت ہے بلکہ اس سوچ کے تحت ہم طبی میدان میں بین الاقوامی چیلنجز کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس کانفرنس میںپیش ہونے والی تجاویز اورسفارشات سے پی ایم ڈی سی اور صحت سے متعلق تمام فیصلہ ساز ادارے بھر پور استفادہ کریں گے اور ان تجاویز اور سفارشات کو صحت کے نظام کی بہتری کے لیئے بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بڑی بڑی عمارات اور جدید آلات کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی ذیادہ تر توجہ بہتر افرادی وسائل کی پیداوار اور تربیت پر مرکوز کرنا ہوگی۔آخر میں مہمان خصوصی نے اورل اور پوسٹرز پریزینٹیشنز میں نمایاں پوزیشن ہولڈرز میں انعامات اورکانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے شرکاء میں توصیفی اسناد تقسیم کیں۔