ْ انسانی و مادی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایاجائے،ضلعی آفیسرسماجی بہبودشکیل اقبال

پیر اپریل 18:14

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) سماجی بہبود قومی ترقی کا اہم عنصر ہے جس میں عوام اور خصوصاًً کمزور طبقات کی بھلائی اور ترقی کو اہمیت حاصل ہے اور جس میں نظر انداز ، غریب اور استحصال شدہ طبقات کو ترجیح دی گئی ہو۔ جس میں بچے ، خواتین اور خصوصاًً غرباء بزرگ ، معذور ، بھکاری اور منشیات کے عادی افراد شامل ہیں۔یہ بات ضلعی آفیسر سماجی بہبود شکیل اقبال نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہی ۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت رضاکارانہ کوششوں کو آگے بڑ ھائیں اور انسانی و مادی وسائل کی بہتر استعمال کو یقینی بنائیں ۔ تاکہ ترقیاتی عمل میں حکومت کی کوششوں میں ہاتھ بٹایا جاسکے ۔انہوں نے کہا ۔ کہ سماجی بہبود اور عوام کی ترقی کے لیے حکومت نے جو پروگرام شروع کئے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا بنیادی مقصد معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ اور معذورافراد کی بحالی ہے جس کیلئے متعد د ترقیاتی سکیم شروع کیے گئے ہیں جسکے تحت مقامی ضروریات اورمشکلات کے حل سمیت مثبت سماجی اور نفسیاتی تبدیلیاں لا نا ہے ۔

تاکہ یکساں سماجی اور اقتصادی ترقی کے بل بوتے پر غربت کے خاتمے کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اندھے ، بہرے اور جسمانی طور پر معذور بچوں کوبھی خصوصی تعلیم دے رہے ہیںاور رضاکار انہ سماجی بہبود ی ایجنسیوں کی پیشہ وارانہ رہنمائی اور مالی تعاون کرکے ان کی کارکردگی کو مستحکم کرنے ، ان کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ این جی اوز ، امداددینے والوں اور متعلقہ حکومتی محکموں کے درمیان رابطہ کاکام کرتے ہیں۔

انہوںنے کہا۔ کہ ضلع مالاکنڈ میں وہ اندھے اور بہرے بچوں کا ایک سکول چلارہے ہیں۔ جس میں 39 اندھے طلباء کو روزمرہ زندگی گزارنے کے طریقے ، ابتدائی تعلیم اور اشاروں کی زبان سمجھائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23 ذہنی معذور بچوں کو بھی معذور افراد کے سکول میں تربیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 180 غریب خواتین کو سات فنی سکولوں میں سلائی ، کڑھائی اور دوسرے متعلقہ فنون کی تربیت دی جارہی ہے۔

تاکہ وہ مستقبل میںاپنے لئے باوقار روزگار چلا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اب تک 9728 معذور افراد اور 63 فعال سماجی بہبود کی ایجنسیاں رجسٹر ڈ کی ہیں۔ جبکہ 60 سال سے زائد شہریوں کی رجسٹریشن جاری ہے۔ تاکہ وہ حکومت کی جانب سے بزرگ شہری کا رڈ حاصل کرسکیں ۔ اس بارے میں بہت جلد حکومت کو رپورٹ ارسال کی جائے گی۔ تاکہ اس پر مزید کاروائی کی جاسکے۔

متعلقہ عنوان :