قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت کا اجلاس

سی ڈی اے کوتین روز میں قائداعظم یونیورسٹی کی زمین کی حد بندی کرنے کی ہدایت

پیر اپریل 19:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و تربیت نے ایک مرتبہ پھر سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ تین روز میں قائداعظم یونیورسٹی کی زمین کی حد بندی کی جائے۔ کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ حد بندی کرکے بلاتاخیر رپورٹ پیش کی جائے۔ پیر کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر امیر اللہ مروت کی زیر صدارت پیر مہر علی شاہ بارانی یونیورسٹی راولپنڈی میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم و تربیت انجینئر محمد بلیغ الرحمن، رکن اسمبلی چوہدری حامد حمید، مسرت زیب، محمد نذیر خان، شاہدہ رحمانی، آسیہ ناز تنولی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ امیر اللہ مروت نے کہا کہ کمیٹی سی ڈی اے کی جانب سے کی زمین کی حد بندی کا جائزہ لینے کیلئے قائد اعظم یونیورسٹی کا دورہ کرے گی۔

(جاری ہے)

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف انکویری رپورٹ 10 روز میں مکمل ہو جانی چاہئے اور ان کو مزید 21 روز کیلئے جبری رخصت پر بھجوانا علامت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صف اول یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر کے بغیر نہیںچلایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں طلباء کو اپنے مطالبات منوانے کیلئے تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے تعلیم کی کمیٹی سے رابطہ کرنا چاہئے تھا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر محمد بلیغ الرحمن نے کہا کہ طلباء کے احتجاج کے بعد اساتذہ کی جانب احتجاج قابل افسوس ہے۔

قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ سوات یونیورسٹی میں بے ضابطگیوں اور خورد برد کی رپورٹ مزید تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوائی جائے۔ صوابی یونیورسٹی برائے خواتین کے رجسٹرار کی جانب سے کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران کمیٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ یونیورسٹی میں مرد اساتذہ کی بھرتی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ان کی بھرتی کو منسوخ کرکے سات روز کے اندر کمیٹی کو رپورٹ جمع کرائی جائے۔اس موقع پر بلیغ الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مختلف سرویز کے بعد ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کے طلباء کو سہولت فراہم کرنے کیلئے مختلف پروگرام شروع کئے ہیں۔ کمیٹی نے انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بہاولپور کے قیام کے بل 2018ء کی چند ترامیم کے بعد منظوری دی۔