برطانیہ میں 2لاکھ بچے شرابی والدین کیساتھ رہ رہے ہیں

حالیہ برسوں کے دوران شرابی والدین کی تعداد میں 16فیصد اضافہ ہواہے حکومت ان بچوں کو منفی اثرات سے بچانے کیلئے اقدام کر رہی ہے،جرمی ہنٹ

پیر اپریل 19:36

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) برطانیہ میں 2لاکھ سے زیادہ بچے نشئی والدین کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں حکومت کے اقدمات کے باوجود حالیہ برسوں میں شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء استعما ل کرنے والوں کی تعداد میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے،حکومت نے اس سلسے میں ذہنی صحت کی خدمات فراہم کرنے کیلئے بھی کہیں اقدمات کئے ہیں تاکہ بچوں کو ایسے ماحول سے محفوظ رکھا جا سکے،انہوں نے ایسے بچوں کو پتہ چلانے اور ان کو والدین کی عادت سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کئے ہیں جن میں لوگوں کو مالی امداد کی بھی ترغیب دی گئی ہے ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر سیکرٹری جرمی ہنٹ نے کہا کہ شراب پینے کے اثرات ان بچوں پر منفی مرتب ہوتے ہیں جو شرابی والدین کی طویل میں ہوتے ہیں لیکن یہ خاموش متاثرہ بچے ہوتے ہیں تاہم یہ بات نہ تو درست ہے اور نہ منصفانہ ان متاثرہ بچوںکو ایسے والدین سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کئے جانے چاہیں،این ایس پی سی سی نے یہ خبر دیتے ہوئے اس کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں ایک والد اپنی گود میں بچے کو لیے ہوئے شراب پی رہا ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ بچے کے چہرے سے ناگواری کے اثرات نمایاں ہیں۔

متعلقہ عنوان :