ْلاہور،پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام تیسری عالمی پیغام اسلام کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

دہشت گردی ، فرقہ وارانہ تشدد اور اسلامی عرب ممالک میں بیرونی مداخلت کے خلاف عالمی اسلامی فکری اتحادکے قیام ، ارض الحرمین الشریفین اور القدس کے تحفظ کیلئے عالمگیر تحریک چلانے، جمعتہ الوداع کو یوم تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ منانے کا فیصلہ

پیر اپریل 20:31

لاہور۔23 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) انتہاء پسندی ، دہشت گردی ، فرقہ وارانہ تشدد اور اسلامی عرب ممالک میں بیرونی مداخلت کے خلاف عالمی اسلامی فکری اتحادکے قیام اور ارض الحرمین الشریفین اور القدس کے تحفظ اور سلامتی کیلئے عالمگیر تحریک چلانے اور جمعتہ الوداع کو یوم تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ منانے کا فیصلہ ، پیغام پاکستان کو بعض ترامیم کے ساتھ قانونی شکل دی جائے اور ملک میں نافذ کیا جائے، اسلام مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں کے حقوق کا بھی محافظ ہے ، اقلیتوں کے ہر جگہ حقوق کے تحفظ کی ضرورت ہے ، خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کو عالم اسلام کیلئے بالعموم اور فلسطین کیلئے بالخصوص خدمات پر 2017 کی عالم اسلام کی محبوب شخصیت قرار دیا گیا اور پاک فوج کی عظیم خدمات پر اسلامی ممالک کے مندوبین کی طرف سے اعزازی شیلڈ دی گئی، یہ بات پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں تیسری عالمی پیغام اسلام کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہی گئی ، کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک کے مندوبین ، غیر ملکی سفراء اور ملک بھر سے ہزاروں علماء و مشائخ نے شرکت کی ، کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی جبکہ کانفرنس کے مہمان خصوصی سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور کے سیکرٹری الشیخ طلال العقیل ، الشیخ ڈاکٹر راشد الزاہرانی ، سعودی سفیر ، نواف سعید المالکی ، فلسطین کے قائم مقام قاضی القضاة دکتور محمود ، اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش ، ڈاکٹر عبدہ حسین ، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایازتھے ۔

(جاری ہے)

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی دوستی لازوال ہے ، پاکستانیوں کے دل میں حرمین الشریفین کی محبت اور احترام کی مثال نہیں ملتی ، مملکت سعودی عرب وحدت کا مرکز ہے ، شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان مسلمانوں کی وحدت چاہتے ہیں اور مسئلہ فلسطین پر سعودی عرب کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ انتہاء پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے امت مسلمہ تباہی کی طرف جا رہی ہے ، عراق ، شام ،، لیبیا ، یمن کی تباہی کے بعد اب اسلام دشمن قوتوں کا ہدف مستحکم اسلامی ممالک اور مسلمانوں کے مقدسات ہیں ، سعودی عرب اور پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے منصوبے تشکیل دئیے جا رہے ہیں، سعودی عرب پر روزانہ حوثی باغیوں کی طرف سے ایرانی ساختہ میزائل حملے امت مسلمہ کیلئے تشویش ناک ہیں، امت مسلمہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام سے غافل نہیں رہ سکتی ، ایران کو عرب ممالک میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے اور اسلامی اور عرب ممالک میں انتہاء پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی حوصلہ افزائی اور مدد بند ہونی چاہیے ۔

اعلامیہ میں امریکی صدر کی طرف سے القدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ اس خطرناک کھیل سے باز رہے ، فلسطین کے مکمل اور خود مختار ریاست کے قیام جس کا دارالخلافہ القدس ہو کے بغیر کوئی حل قبول نہیں کیا جا سکتا ، عالم اسلام فلسطین اور اہل فلسطین کے ساتھ ہے اور عرب لیگ کی 29 ویں سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کی مکمل تائید کی جاتی ہے ۔

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل فوری طور پر سعودی عرب پر حملہ کرنے والے حوثی باغیوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ایکشن کا فیصلہ کریں ، حوثی باغیوں کے خلاف عالمی دنیا کو متحدہو نا ہو گا ، حوثی باغی سعودی عرب کے شہری علاقوں پر حملے کر رہے ہیں اور اگر یہ حملے زائرین بیت اللہ پرکسی وقت کر دئیے گئے تو دنیا کا امن خطرہ میں پڑ جائے گا ۔

اعلامیہ میں پاکستان کی فوج اور حکومت کی طرف سے سعودی عرب مشاورت اور ٹریننگ کیلئے فوج بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ عالم اسلام کی عظیم فوجی اور ایٹمی قوت ہونے کے ناطے پاکستان کی عوام اور فوج پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے مقدسات کے دفاع اور استحکام کیلئے سعودی عرب کی حکومت کی مشاورت اور معاونت کرے ۔ اعلامیہ میں پاکستان کے علماء کی طرف سے پیغام پاکستان کو درست سمت قدم قرار دیتے ہوئے ملک میں قومی بیانیہ کی صورت میں بعض ترامیم کے ساتھ اسے نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیااور کہا گیا کہ انتہاء پسند نظریات رکھنے والی جماعتوں کے مقابلے کیلئے مسلم علماء اور مفکرین کو میدان میں آنا چاہیے۔

اعلامیہ میں مظلوم کشمیریوں ، شامیوں ، فلسطینیوں کی مکمل حمایت اور تائید کا اعلان کرتے ہوئے اقوام عالم سے ریاستی دہشتگردی ختم کروانے اور کشمیری،فلسطینی اور شامی عوام کو ان کی رائے کے مطابق فیصلے کرنے کا حق دیا جائے،کانفرنس میں انتہا پسندی ،ْ دہشتگردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لئے شرکاء کانفرنس اور اسلامی ممالک کے مندوبین کی طرف سے پاک فوج کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ مسلم امہ پاک فوج اور قوم کے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے کردار کو تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔

اعلامیہ میں پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی قوتوں سے اپیل کی گئی کہ وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کے لئے متحد ہو جائیںاور سازشوں کا مقابلہ باہمی اتحاد سے کریں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہندوستان اور بعض عالمی قوتیں پاکستان اور عرب اسلامی ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہندوستان کا ایرانی بندرگاہ چاہ بہار لیز پر لینا بھی تشویشناک اور خطہ کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔

حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں ایرانی حکومت سے بات کرنی چاہیے۔کانفرنس سے مولانا عبدالحق مجاہد ،ْمولانا عبدالحمید وٹو ،ْ مولانا ایوب صفدر ،ْ قاضی مطیع اللہ سعیدی ،ْ مولانا اسد اللہ فاروق ،ْ مولانا اسعد زکریا ،ْ مولانا شفیع قاسمی ،ْ مولانا طیب شاد قادری و دیگرنے بھی خطاب کیا۔