ْکوئٹہ،بلوچستان کے جوان کسی سے پیچھے نہیں، انہیں درست مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے،

مقررین پاکستانیت کے جذبے کو اجاگر کر کے انتہا پسندی کا راستہ روکا جا سکتا ہے،قائد اعظم کی بات سب کرتے ہیں ان کی تعلیمات کا اکثریت کو علم ہی نہیں،سیمینار سے خطاب

پیر اپریل 20:38

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) بلوچستان کے جوان کسی سے پیچھے نہیں، انہیں درست مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے، پاکستانی نوجوانوں کو مذہبی اور سیکولر انتہاپسندی کی یلغار کا سامنا ہے، پاکستانیت کے جذبے کو اجاگر کر کے انتہا پسندی کا راستہ روکا جا سکتا ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے محاذ پر فتح حاصل کر لی ہے، دہشت گردوں کو نظریاتی محاذ پر بھی شکست دینا ہوگی، قائد اعظم کی بات سب کرتے ہیں ان کی تعلیمات کا اکثریت کو علم ہی نہیں،ان خیالات کا اظہار مقررین نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز(پکس)کے نیشنلزم اور پاکستانیت کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا، یہ سیمینار بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشنٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز میں ہوا جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات مہمان خصوصی تھے جبکہ سیمینار سے میجرجنرل(ر)سعد خٹک، سینیٹر(ر) روبینہ خالد، بریگیڈیئر(ر)آغا گل، ایڈووکیٹ اعزاز حیدر، عبداللہ خان، فیضان زیدی، روشن خورشید بروچہ، اور دیگر مقررین نے خطاب کیا، سیمینار میں کوئٹہ کی مختلف سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ پاکستانیت بابائے قوم قائداعطم محمد علی جناح اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ ان کے عظیم افکار وبلند کردار کے ساتھ وابستہ ہے ،،قائداعظم محمد علی جناح مخلص ،دیانتدار اور پر عزم نظم وضبط کے پاپند وعظیم لیڈر تھے،جو قومیں اپنی تاریخ سے نہیں جڑتیں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہم مہر گڑھ ،وادی سندھ اور گندھارا جیسی تاریخی تہذیبوں کے آمین ہے ،،پاکستان کے لوگ صوفیانہ طرز زندگی کے قائل انتہائی صبرواستقامت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشارہیں،انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی ودہشتگردی پاکستان کی شناخت نہیں بلکہ ہماری پہچان صوفیاواولیا کرام کی پرامن تعلیمات ہیں ،،پاکستان شاعر وداب ،مواقع وتاریخ کی سرزمین ہے،عالمی سروے کے مطابق پاکستان قوم دنیا بھر میں اپنی مادر وطن کا دفاع کا جذبہ رکھنے والے دوسری بڑی قوم ہے،انہوں نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کا عظیم کردار وبلند افکار اور تعلیمات ہمارے لیے مشعل راہ ہے ملک کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے اصولوں ونقش قدم پر عمل پیراہوکر ہی کیا جاسکتا ہے ،سمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کنفلیکٹ اینڈسیکورٹی سٹیڈیز کے ڈایکٹر جنرل میجر جنرل(ر)محمد سعد خٹک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان نے عوام کے تعاون سے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہے ،دشمن کا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ طلبا وطالبات کے پختہ عزم اور حوصلے کو متزلزل نہیں کرسکتا ،پاکستانیت کے اوپر کبھی آنچ نہیں آنے دینگے ،ہماری نوجوان نسل دشمن کی اندرونی وبیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پر عزم اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

(جاری ہے)

میجر جنرل(ر) سعد خٹک نے کہا کہ پوری دنیا میں گزشتہ پندرہ برس کے دوران دہشت گردی میں اضافہ ہوا، پوری دنیا کی افواج مل کر بھی اس خطرے سے نمٹنے میں ناکام رہیں اور فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود دہشت گردی کا رجحان بڑھتا گیا، لیکن پاکستان کی مثال سب سے الگ ہے، ہم نے دہشت گردی کے حوالے سے بدترین دن بھی دیکھیں لیکن پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو اپنی سرزمین سے اکھاڑ پھینکا، اپنے علاقے کلئیر کیے اور آج دہشت گردوں کے پاس پاک سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں، انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کا سہرا کسی ایک ادارے کے سر نہیں بلکہ پوری قوم کے سر ہے، معروف وکیل اعزاز بن حید ر نے کہا کہ یہاں سب پاکستانیت کی بات کرتے ہیں اور قائد اعظم کی بات کرتے ہیں لیکن قائد کی تعلیمات کا کم ہی لوگوں کو علم ہے۔

انہوں نے کہ بلوچستان کے بغیر پاکستان مکمل نہیں کیونکہ بلوچستان کے ستان سے پاکستان بنا تھا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا کہ انتہا پسندی کا جنگی محاذ کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی مقابلہ ضروری ہے، ہماری افواج لگ بھگ تیس ہزار جنگجوں کو ہلاک کر چکی ہیں لیکن پھر بھی جنگجو پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ وہ نظریہ جو نوجوانوں کے ذھنوں کو پراگندہ کرتا ہے اسے چیلنج نہیں کیا گیا نہ ہی نظریاتی اعتبار سے نوجوانوں کو جوابی بیانئیے سے مسلح کیا گیا، عبداللہ خان نے کہا کہ اس وقت جدید ترین یونیورسٹیوں کے طلبا دہشت گرد گروپوں کے ہاتھ چڑھ رہے ہیں جو اسلام اور جہاد کی غلط تعبیر کر کے نوجوانوں کو خودکش بمبار بنا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ گمراہ ہونے والے نوجوانوں کی اصلاح اور بحالی کے لئے قومی سطح کا پروگرام چلانے کی ضرورت ہی. سینیٹر (ر)روبینہ خالد نے کہا کہ پاکستان میں خواتین جس شعبہ میں بھی آگے جانے کی کوشش کریں انکے لئے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ بلوچستان کی لڑکیاں اپنے لیئے خود راستے بنا لیں گی ۔

سیمینار سے بریگیڈیئر ا(ر) آغا گل خورشید روشن بروچہ فیضان حسن شاہدہ عباس سرور جاوید نوید جان بلوچ نے بھی خطاب کیاسمینار کے اختتام پر میجر جنرل (ر)محمد سعد خٹک اور وائس چانسلر بیوٹمز یونیورسٹی کوئٹہ فاروق احمد بازئی نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کو یادگاری شیلڈ پیش کئے سمینار میں بلوچستان کے مختلف جامعات کے اساتذہ کرام ،طالب علموں سمیت زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افرادنے بڑی تعداد میں شرکت کی۔