سینیٹ انتخابات سے ثابت ہوگیا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس سارے کھوٹے سکے ہیں، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا

پیر اپریل 20:41

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات سے ثابت ہوگیا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس سارے کھوٹے سکے ہیں انمول ہیرے صرف جماعت اسلامی کے پاس ہیں، سینیٹ انتخابات نے سیاستدانوں کو بے نقاب کردیا ہے، سینیٹ انتخابات میں پورے کے پورے اصطبل فروخت ہوئے۔۔تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کا 60کروڑ فروخت ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔

جن جماعتوں کے ممبران اسمبلی نے اپنے اوپر برائے فروخت کا بورڈ لگایا وہ جماعتیں تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ بکنے والے سیاستدان امریکہ اور بھارت سے زیادہ خطرناک ہیں۔حکومت امریکی خوف سے اسلام آباد کے نوجوان عتیق بیگ کے قاتل کرنل جوزف کو گرفتار نہیں کررہی۔ کرنل جوزف کوگرفتار کیا جائے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس آف پاکستان نے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی پر پنجاب،، سندھ اور خیبر پختونخوا کے وزراء اعلیٰ کو نالائقی کا سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے۔

سٹیٹس کو، لبرل اور سیکولر جماعتیں ستر سالوں میں عوام کو صاف پانی تک نہ دے سکیں۔ ملک میں تبدیلی اور انقلاب صرف جماعت اسلامی لاسکتی ہے۔ عام انتخابات میں بھر پور کامیابی حاصل کرکے لبرل ازم اور سیکولرازم کا جنازہ نکالیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گانوڑی تحصیل پورن ضلع شانگلہ میں اجتماع عام برائے ارکان و کارکنان سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع شانگلہ نجم اللہ، فدا محمد اور دیگر نے خطاب کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے کرپٹ ٹولے اور مافیا کے خلاف فیصلے عوام کے دلوں کی آواز ہیں۔ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور مافیا کے خلاف عدلیہ کے دفاع میں آخری حد تک جائیں گے۔ عدلیہ نے سیاست کے گند کو صاف کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

چیف جسٹس سینیٹ انتخابات میں ہونے والی خرید و فروخت پر بھی سوموٹو ایکشن لیں ، جماعت اسلامی عدلیہ کی پشت پر ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کو امانت و صداقت کا سرٹیفیکیٹ دیا اور سینیٹ الیکشن نے ثابت کردیا کہ صرف جماعت اسلامی کے ممبران اسمبلی ہیں جو فروخت نہیں ہوسکتے۔ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی سروے رپورٹس نے صرف جماعت اسلامی کو جمہوری جماعت قرار دیا ہے۔

جماعت اسلامی ہی ملک میں تبدیلی لاسکتی ہے اور ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ ایک پارٹی نے اپنے جن ممبران کو ووٹ بیچنے اور کرپشن کے الزامات پر پارٹی سے نکالا وہی ممبران کہہ رہے ہیں کہ ہمارے لیڈر نے کرپشن کی ہے۔ لیڈرز اور ممبران ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پارٹیوںکے تمام ممبران اسمبلی اور مرکزی و صوبائی قیادت کو بلائیں اور دونوںا طراف کے الزامات کا جائزہ لیں اور تحقیقات کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔

انہوں نے کہا کہ مساجد، مدارس اور قانون ناموس رسالت ﷺ ہمارے لئے ریڈ لائن ہیں، مدارس اور دینی مراکز کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈا برداشت نہیں کریں گے۔ دینی مدارس کو بجٹ میں حصہ نہیں دیا جارہا اور پراپیگنڈا بھی انہی کے خلاف کیا جارہا ہے یہ رویہ درست نہیں، مدارس آڈٹ کرانے، بینک اکاؤنٹس کھولنے، انگریزی پڑھانے اور رجسٹریشن کے لئے تیار ہے لیکن ریاست ان کے راستے میں رکاؤٹ ہے۔یہ حکومت کی نااہلی ہے کہ این جی اوز کو تو بنک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت ہے لیکن مدارس کو نہیں۔