چکوال، الیکشن کمیشن کی طرف سے تمام ترقیاتی فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ نئی تقرریوں پر پابندی

جس سے عملی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معطل کر دیا گیا ہے ،یکم اپریل سے تمام نئے منصوبے شروع کرنے اور ان کے افتتاح کرنے پر مکمل پابندی سے ضلع چکوال کے 9پارلیمنٹرینز کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے

پیر اپریل 20:41

چکوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے تمام ترقیاتی فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ نئی تقرریوں پر پابندی سے عملی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یکم اپریل سے تمام نئے منصوبے شروع کرنے اور ان کے افتتاح کرنے پر مکمل پابندی سے ضلع چکوال کے 9پارلیمنٹرینز کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے۔

خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے آخری ہلے کے طو رپر ضلع چکوال کے مسلم لیگی پارلیمنٹرینز کو کروڑوں روپے کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی گرانٹ جاری کی تھی جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اب ان کو خرچ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ بظاہراً وفاق اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے مگر میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکومتی مشینری عضو معطل بن چکی ہے اور اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے از خود نوٹسوں نے پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کو ادھ موا کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ ن کو اس سے بھی مشکل وقت کا سامنا ہوگا۔ نیب نے موجودہ پنجاب حکومت کے وزیروں، مشیروں کیخلاف ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور نگران حکومتوں کے قیام کیساتھ ہی ان وزراء ، مشیروں پر دھاوا بولا جائے گا اور ان کو آنے والے الیکشن کی بجائے اپنی اپنی پڑ جائے گی۔ پاکستان تحریک انصاف اور ضلع چکوال میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے پراسرار خاموشی ہے۔

مسلم لیگ ن کے ہمالیہ پہاڑ کو سر کرنے کیلئے کوئی بڑی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے سیاسی منظر نامہ عجیب و غریب ہوتا جا رہا ہے بہرحال سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ جو بھی صورتحال ہوئی آنے والے الیکشن ہوئے تو مقابلہ مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان ہی ہوگا۔