پی ٹی آئی کی17اراکین نے اپنے اوپرلگائے جانیوالے الزامات مستردکردئیے

عمران خان اور وزیراعلیٰ15دن کے اندر اراکین اسمبلی کی پگڑیاں اچھالنے پرمعافی مانگیں ورنہ حقائق سے پردہ اٹھالینگے چیف جسٹس معاملے کاازخودنوٹس لیں اور سینیٹ کاٹکٹ فروخت کرنے پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں اپوزیشن کے ساتھ ملکرتحریک عدم ااعتمادلارہے ہیں،الزام زدہ اراکین کی پریس کانفرنس،عبدالحق کا مشیرشپ سے استعفیٰ

پیر اپریل 20:50

نوشہرہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے 17 ارکان اسمبلی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے جاری شوکاز نوٹسز کو مسترد کردیااور پی ٹی ائی کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اورکمیٹی کو انتبا ہ کیا کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر اپنی شیروانی کی خاطر خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین اسمبلی کی پگڑیاں اچھالنے پر معافی مانگیںا گر قیادت نے معافی نہیں مانگی تو ہم اور بہت کچھ کریںگے اور تمام حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔

ہماری طرف سے بھی معافی کادورازہ بند ہوجائے گا بصور ت دیگر ہم اعلیٰ عدلیہ سے انصاف کے لیے دروازہ کھٹکٹھاٹنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثا رسے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کااز خود نوٹس لیںاور یہ بھی دیکھیں کہ تحریک انصاف کی قیادت نے کن لوگوں کو سینٹ کا ٹکٹ دیا اور چالیس چالیس کروڑ روپے پر سینٹ کے ٹکٹ فروخت کیے گئے۔

(جاری ہے)

فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں ۔ سینٹ چیئرمین شپ کے لیے خیبرپختونخوا کو کیوں نظر انداز کیاگیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین یہ بھی بتائیں کہ تخت لاہور پر حکومت بنانے کی خاطر خیبرپختونخوا کے عوام اور عوامی نمائندوںکو قربان کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے پیسے لیے وہ پرویز خٹک گروپ کے تھے ۔ وزیرا علیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک فوری طور پر سٹیپ ڈائون ہوجائیں گے ہم اپوزیشن کے ساتھ ملکر تحریک عدم اعتماد لارہے ہیں۔

پی ٹی ائی کے چیرمین عمران خان یہ بھی بتائیں کہ انھوں نے سینٹ کے چیرمین کی نشست کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کا ضمیر کتنے میں فروخت کیا۔ صوبائی وزیر رابطہ کمیٹی عبدالحق نے استعفیٰ کا اعلان بھی کردیا۔ ان خیالات کااظہار خیبرپختونخوا اسمبلی کے دس اراکین اسمبلی قربانی علی خان ، وجہیہ الزمان، یاسین خلیل، صوبائی وزیر رابطہ عبدالحق، جاوید نسیم، عبید اللہ مایار، محب اللہ، محترمہ نسیم حیات، نرگس بی بی اور نگینہ خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ضیا ء اللہ آفریدی بھی موجود تھے۔

قربانی علی خان نے کہا کہ پارٹی تبدیل کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل بعد میں طے کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ملک بچانے نکلے ہیں اور اسی نعرے پر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور ایک بڑی پیپلز پارٹی کو چھوڑ ا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت بنائے گی ہم تو ایک سوچ کے ساتھ تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ قربان علی خان نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک 15 دن کے اندراندر اراکین اسمبلی سے معافی نہ مانگی تو ان کے خلاف تمام وہ ثبوت پیش کریں گے جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکے گا پرویز خٹک اپنی وزارت اعلیٰ کا منصب کھوچکے ہیں اخلاقی طورپر پرویز خٹک فوری طورپر مستعفی ہوجائے۔

اس موقع پرپریس کانفرنس کے دوران اراکین صوبائی اسمبلی نے تحریک انصاف کی قائم کردہ کمیٹی کی طرف سے شوکاز نوٹسز کی کاپیاں پھاڑدی ۔ قربان علی خان نے کہا کہ کیونکہ الزامات پہلے لگے جبکہ نوٹس بعد میں بجھوائے گئے ہم ان دونوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کٹکٹائیں گے چیف جسٹس آف پاکستان ہم پر لگائے گئے الزامات کا سوموٹو ایکشن لے بصورت دیگر راہ راست اقدام پر مجبور ہوجائیں گے۔

قربان علی خان نے کہا کہ ہماری بہنوں سے سروں سے چادر اڑادئیے گئے حالانکہ پختون روایات کے مطابق پختون قوم اپنی بہنوں کے سروں پر چادر ڈال دیتے ہیں عمران خان صرف شیروانی پہننے کیلئے پختون قوم کو بدنام کررہے ہیں ،قربان علی خان نے کہا کہ حالانکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے خود اراکین اسمبلی کے خرید وفروخت میں حصہ لیا اور پرویز خٹک خود بتائیں کہ انہوں نے سینٹ کے چیئرمین پر کتنے ووٹ فروخت کئے جنگلہ بس کا واویلہ کرنے والے عمران خان اور پرویز خٹک نے خود جنگلہ بس کی خاطر پشاور کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے اربوں روپے کی کرپشن کی اور جنگلہ بس کو 70 ارب روپے تک پہنچا کر خیبرپختونخوا کو مقروض بناکر صوبہ کا بیڑا عرق کردیا انھوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے عمران خان کے گروپ کے ایم پی ایز کو بدنام کرنے کی جو کوشش کی ہے ان کی ہم پرزو ر مذمت کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا بلکہ پرویز خٹک نے اس مکروہ دھندے میں ایم پی ایز کی خرید وفروخت میں بھرپورکردار ادا کیا ۔

اس موقع پر نسیم حیات نے کہا کہ مجھے بھی پی ٹی آئی والوں نے رقم دی مگر نہیں بتائوں گی۔ یہ رقم پی ٹی آئی والوں نے مجھے کیوں دی اسکا جواب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک خود دیں گے میں اب سب کچھ نہیں کہہ سکتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر ہاؤس میں ایم پی ایز کو باقاعدہ رقم دے کر ووٹ استعمال کرنے کی اجازت دی۔ مقررین نے کہا کہ ہمیں اس لئے بدنام کیاگیا کہ ہم پرویز خٹک کے کرپشن،، اقرباء پروری اور نظریاتی کارکنوں سے ناروا سلوک کی آواز بلند کرتے تھے انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک لاکھ کوشش کریں لیکن حقیقت قوم کے سامنے ضرور آئے گی ہم اور ہماری بہنوں نے قرآن پر حلف اٹھا کر کہا ہے کہ ہم نے پارٹی امیدواروں کو ووٹ دیا ہے جبکہ پرویز خٹک گروپ کے آدمیوں نے ووٹ فروخت بھی کئے اور اپنے آدمیوں کو ٹیلکم پاؤڈر سے نہا بھی دیا عمران خان کو کالے کنویں میں پھینک دیاگیا ہے کیونکہ ان کو حقیقت کا کوئی علم نہیں ہے اور پرویز خٹک کی ایماء پر تحریک انصاف کا بیڑا عرق کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ارب پتیوں کو سینٹ کا ٹکٹ جاری کیاگیا اور انہوں نے خرید وفروخت میں بھرپور حصہ لیا وہ پارٹی کے نظریاتی کارکن نہیں تھے لیکن سرمایہ داروں کو اس لئے ووٹ دیاگیا کہ وہ اپنے لئے ووٹ خرید سکے اور ان ووٹوں کا سودا پرویز خٹک نے کیا انہوں نے کہا کہ پختون قوم نے 2013 کے انتخابات میں عمران خان کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرکے اکثریت دلائی تھی لیکن وہ اپنی مفاد کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں بلوچستان والے بھی ہمارے بھائی ہیں لیکن سینٹ کے چیئرمین پر پختون قوم کا حق تھا اور چیئرمین سینٹ بھی خیبرپختونخوا سے ہونا چاہیے تھا اس موقع پر وجیہ الزمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر لاہور میں جنگہ بس تھی تو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پشاور میں میٹر بس کیوں بنارہے ہیں۔

ستر ارب روپے میں نیاپشاور بن سکتا تھا۔ پی ٹی ائی کے امیدواروں نے چار چار کروڑ روپے پارٹی کو دئیے ۔یاسین خلیل نے کہا کہ عمران خان نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ضیا ء اللہ افریدی کوبدنام کیاگیا اوربے عزت کیاگیا۔ اس موقع پرصوبائی رابطے کے مشیر عبدالحق نے کہا میں ایسی وزارت پر لعنت بھجتاہوں۔میں تو برائے نام مشیر تھا۔ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں نظریاتی کارکنوں کیلئے کوئی جگہ نہیں اور پرویز خٹک کے جائز اور ناجائز کام کی حمایت کرنے والے تحریک انصاف کا حصہ ہے جبکہ نظریاتی ایم پی ایز کو بدنام کرنے کیلئے ان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے حالانکہ پرویز خٹک ہارس ٹریڈنگ کے بے تاج بادشاہ ہے اور صوبے میں ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پرویز خٹک نے رکھی ہم نے نہ پہلے ہارس ٹریڈنگ کی اور نہ آئندہ کریں گے اور عمران خان نے پرویز خٹک کی ایماء پر پارٹی کے نظریاتی ایم پی ایز کو بدنام کر کے ہم پر بے بنیاد الزامات لگائیں ہم ایسے وزیراعلیٰ اور وزارت پر لعنت بھیجتے ہیں ہمارے ساتھی 22 ایم پی ایز کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا فوری طورپرمستعفی ہوجائے ہم اس سلسلے میں اپوزیشن سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے انہوں نے کہا کہ 22 ایم پی ایز کے علاوہ دیگر ایم پی ایز بھی بہت جلد تحریک انصاف سے مستعفی ہوکر تحریک انصاف کا صوبے سے صفایا کردیں گے انہوں نے مزید کہا کہ ہم عمران خان کے جھوٹے وعدوں میں آکر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی کہ تحریک انصاف حقیقی معنوں میں عوام کو انصاف دیں گے اور تبدیلی لائیں گے لیکن انہوں نے خیبرپختونخوا کو 60 پیچھے دھکیل دیا ہے اور جتنی کرپشن ان لوگوں نے صرف پشاور میں ہے 60 سالہ تاریخ میں کسی نے بھی نہیں کی اور جنگلہ بس کی آڑ میں پشاور کو کمیشن کی خاطر کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے۔