اسلامی نظریاتی کونسل نے دہشت گردی کے خلاف ’’پیغام پاکستان‘‘ پر کام شروع کر دیا ہے

پیر اپریل 20:55

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) اسلامی نظریاتی کونسل نے دہشت گردی کے خلاف ’’پیغام پاکستان‘‘ پر کام شروع کر دیا ہے جبکہ ادارہ تحقیقات اسلامی اس پیغام کو چاروں صوبوں میں لے کر جا رہا ہے اس حوالے سے جامعة الرشید جیسے ادارے کا سامنے آنا اور آگے بڑھ کر کام کرنا خوش آئند ہے، ’’پیغام پاکستان‘‘ کو قانونی شکل دے کر عالمی سطح پر ملکی امیج بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے جامعة الرشید کی سالانہ تقریب تقسیم اسنادو انعامات اور ’’پیغام پاکستان کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری، ناظم اعلی وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا حنیف جالندھری، صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، سابق وائس ایڈمرل عارف اللہ حسینی، ترکی کے معروف عالم دین الشیخ الدکتور احسن اوجاق، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، سابق آئی جی سندھ ڈاکٹر محمد شعیب سڈل، سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر مختار احمد، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز، سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی، معروف اینکر ڈاکٹر انیق احمد، معروف تاجر زبیر موتی والا، جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم و دیگر ممتاز شخصیات نے خطاب کیا جبکہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے استاد الحدیث مولانا راحت علی ہاشمی، ڈاکٹر نبیل زبیری، مولانا مفتی محمد طیب، ریاض چامڑیا ،معروف صحافی عبدالجبار خٹک، تجزیہ نگار اور پروگرام اینکر وسعت اللہ خان، مفتی مزمل حسین کاپڑیا، ڈاکٹر ہانی منصور محمد المزیدی، نوید زبیری، سید محمد حسین، شاہد صابر و دیگرنے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر مختلف شعبوں سے 359 فارغ التحصیل طلبہ جن میں درس نظامی کے 64، کلی الشریعہ کی27، BS. MBA.BA اور B.com کے 60، تخصص فی الفقہ المعاملات المالیہ کے 9، تخصص فی الافتاوفقہ الحلال کے 23 و دیگر اسپیشل کورسز کے 176 طلبہ کو اسناد عطا کی گئیں، طلبا کو مختلف کتب کے سیٹ اور ساڑھے 3 لاکھ کتابوں پر مشتمل ڈیجیٹل لائبریری کی ہارڈ ڈسک بھی دی گئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جامعة الرشید قوم کی بہت خدمت کررہا ہے، فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا یہ ادارہ بہت اہم خدمات سرانجام دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے کہوں گا کہ پیغام پاکستان کو قانونی شکل نہیں دی گئی، شاید اسلامی نظریاتی کونسل اقدامات اٹھا رہی ہے لیکن چونکہ پاکستان میں ایک تحریری آئین موجود ہے لہذا جو دستاویز پاکستان کے مفاد میں ہو آئینی تقاضا ہے کہ اسے آئینی شکل دی جائے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی نظر ہمارے معاشرتی مسائل کے حل پر مرکوز ہے، یہ یونیورسٹی قومی یکجہتی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت ممنون حسین نے دہشت گردی، انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ابتدائیہ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، اس مسودے پر ایک سال کام کیا گیا، قومی جامعات کے اساتذہ، سول سوسائٹی،، علماء کی آراء کی روشنی میں مسودہ تشکیل دیا گیا، اس مسودے پر 1829 علمائے کرام نے دستخط کئے اور بالاخر 16 جنوری 2018ء کو ایوان صدر میں اس مسودے جس میں تمام علماکا فتوی بھی شامل ہے، کی تقریب رونمائی ہوئی، تاہم ہمارا اصل کام اب شروع ہوا ہے، خوشی کی بات یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اس پر کام شروع کردیا ہے، ادارہ تحقیقات اسلامی چاروں صوبوں میں اس پیغام کو لے کر جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جامعة الرشید جیسے ادارے کا سامنے آنا اور آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا خوش آئند ہے، پاکستان کا تحفظ اور امن کا قیام ہمارا دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی تعلیم کو عصری تعلیم سے الگ کرنے کے بعد مسلمانوں کی تنزلی شروع ہوئی، اس معاشرے کو صحیح ڈگر پر لانے کے لئے اس کے سوا کوئی حل نہیں رہا کہ ہم دینی و عصری علوم کے امتزاج پر مشتمل نظام تعلیم کو اپنائیں۔

ناظم اعلی وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا حنیف جالندھری خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، پیغام پاکستان اس کا ثبوت ہے۔ ہم نے 2004ء میں بھی دہشت گردی کے خلاف فتوی دیا جس کی پاداش میں وفاق المدارس کے نائب صدر مولانا حسن جان کو شہید کیا گیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پیغام پاکستان پر عمل کیا جائے۔