سپریم کورٹ میں غیر متعلقہ افراد کی سیکورٹی کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت

تمام صوبوں کو ایک ہفتے میںسیکیورٹی فراہمی کا یکساں فارمولا طے کرنے کی ہدایت

پیر اپریل 21:01

سپریم کورٹ میں غیر متعلقہ افراد کی سیکورٹی کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے غیر متعلقہ افراد کی سیکورٹی کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس میں تمام صوبوں کو ایک ہفتے میںسیکیورٹی فراہمی کا یکساں فارمولا طے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ جن لوگوں کی زندگی کوخطرہ ہے ،ان سے سیکورٹی واپس نہ لی جائے ،بلکہ ان کو مناسب سیکورٹی دی جائے عدالت کسی کی زندگی کوخطرے میں نہیں ڈالناچاہتی، ،پیرکوچیف جسٹس میاںثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پرچیف جسٹس نے کہاکہ یہ اہم کیس ہے جس کی سماعت کے دوران تمام صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کوعدالت میں موجود ہونا چاہیے ، فاضل چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ ہمیں بتایاجائے کہ غیرمتعلقہ افراد یا جن کو سیکورٹی لینے کاحق حاصل نہیں، ان سے سیکیورٹی واپس لینے کی کیاصورتحال ہے ، کیونکہ بعض لوگوں کوسیکیورٹی واپس لینے پراعتراض ہے ،جن میں میڈیا بھی شامل ہے ،،چیف جسٹس نے واضح کیا کہ جن لوگوں کیلئے سیکیورٹی رسک موجود ہے ،ان سے سیکیورٹی واپس نہ لی جائے، ہم کسی کی زندگی کوخطرے میں نہیں ڈالناچاہتے، تاہم یہ واضح ہے کہ بغیرقاعدے کے سیکیورٹی واپس نہیں ملنی چاہیے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ عدالت کوبتایاجائے کہ کیا اسفند یارولی کوسیکیورٹی دی گئی ، اورکیانواز شریف کو بطور سابق وزیراعظم سیکیورٹی ملی ہے،قانون کے مطابق ان کی جوسیکیورٹی بنتی ہے،وہ دی جانی چاہیے، عدالت کوآئی جی اسلام آباد نے پیش ہوکربتایاکہ ہم ان افراد کوسیکورٹی فراہم کرتے ہیں،جن افراد کے نام وزارت داخلہ نے دئیے ہیں تاہم غیر متعلقہ افراد کی سیکیورٹی کے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، سماعت کے دوران چیف جسٹس کاکہناتھا کہ پنجاب میں غیر متلعلقہ افراد کی سیکیورٹی پر ایک ارب 38 کروڑ روپے کاخرچہ آتا ہے، جبکہ بعض لوگوں کیلئے سفید کپڑوں میں ملبوس افراد کو بھی سیکیورٹی پر مامور کیا جاتا ،عدالت کو یہ بھی بتایا جائے کہ سیکورٹی کیلئے استعمال ہونے والی گاڑیوں پرکتنے اخراجات آتے ہیں۔

(جاری ہے)

پولیس نے تویہ دیکھنا ہے کہ کن لوگوں کو سیکیورٹی کی ضرورت ہے ،عدالت کے نوٹس لینے پر پنجاب میں 4600 سے زائد اہلکاروں کوسیکیورٹی کی ڈیوٹی سے واپس بلایا گیا ہے ،،چیف جسٹس نے ہدایت کی،تمام صوبے سیکیورٹی کے حوالے سے قواعد یا میکنزم بناکرعدالت کوآگاہ کریں سیکورٹی کایکساں فارمولا ہونا چاہیے ،ایسے لوگوں کوسیکیورٹی نہیں ملنی چاہیے جو سرکاری سیکورٹی کاحق نہیں رکھتے ، لیکن جن افراد کی زندگی کوخطرات لاحق ہیں ان کی سیکیورٹی بھی مناسب ہو نی چاہیئں ، چیف جسٹس نے مزید کہاکہ سیکیورٹی سے متعلق ایکشن لینے کا بنیادی مقصد ٹیکس کاپیسہ بچاناہے،سرکاری گاڑیوں کا بھی غلط استعمال نہیں ہوناچاہیے کیونکہ لاہور میں میں نے خود دیکھا ہے کہ بچے سرکاری گاڑیاں چلارہے ہیں، بعدازاں مزید سماعت ملتوی کردی گئی ۔