سانحہ ماڈل ٹاؤن ، پولیس مقدمہ سے متعلق کیس کی سماعت ، سرکاری وکیل کی بے جا مداخلت پرفاضل جج برہم

پیر اپریل 21:08

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے پولیس مقدمہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کی بے جا مداخلت پرفاضل جج اعجاز حسن اعوان برہم ہوگئے۔ سوموار کو دوران سماعت عوامی تحریک کے وکلاء نے استغاثہ کے گواہ کانسٹیبل سائیں اور سب انسپکٹر ثناء اللہ سے جرح کی۔

عدالتی کارروائی کے دوران پولیس ملزمان کے وکلاء کی مداخلت اور کارروائی میں خلل ڈالنے پر فاضل جج نے عدالتی آداب کا خیال رکھنے کی بار بار تنبیہ کی اور ان وکلاء کو روسٹرم سے ہٹ جانے کا حکم دیا جو ملزمان کے وکلاء نہیں تھے، اے ٹی سی جج کے بار بار حکم کے باوجود ملزم پارٹی نے شوروغل جاری رکھا جس پر جج نے سختی سے کہا کہ اس شور کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا،عدالتی عمل ہر صورت قانون کے مطابق آگے بڑھے گا۔

(جاری ہے)

کمرہ عدالت میں عوامی تحریک کے وکیل مستغیث جواد حامد نے پراسیکیوٹر وقار بھٹی کی بے جا مداخلت پر احتجاج کیا اور کہا کہ سرکاری وکیل شاہ سے زیادہ شاہ کاوفادار بننے کی کوشش کر رہے ہیں ، جج کے بار بار منع کرنے پر بھی وقار بھٹی نے مداخلت بند نہ کی۔۔پولیس کانسٹیبل سائیں کے بیان پر اس وقت صورتحال دلچسپ ہو گئی جب اس نے کہا کہ اینٹ لگنے سے وہ بے ہوش ہو گئے اور عالم بے ہوشی میں وقوعہ بھی دیکھتا رہا، کانسٹیبل کو شرمندگی سے بچانے کے لئے پراسیکیوشن اور پولیس وکلاء جرح کے عمل میں خلل ڈالتے رہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔

متعلقہ عنوان :