کراچی،دو مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وفود کی پی ٹی آئی میں شمولیت

شمولیت کا اعلان کرنے والوں میں مسلم لیگ ن ، خیر پور میرس کے صدر سید آصف علی شاہ جیلانی (پیر آف رانی پور)، تعلقہ صدر ٹھری میر واہ محمد ادریس جوگی ع دیگر تھے ، پریس کانفرنس کت دوران اعلان

پیر اپریل 21:13

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمران اسماعیل، سینئر نائب صدر پی ٹی آئی سندھ حلیم عادل شیخ اور پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے آج پارٹی سیکرٹریٹ ’’انصاف ہائوس‘‘ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ پریس کانفرنس اس اعتبار سے اہم تھی کیونکہ اس میں دو مختلف وفود نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

شمولیت کا اعلان کرنے والوں میں مسلم لیگ ن ، خیر پور میرس کے صدر سید آصف علی شاہ جیلانی (پیر آف رانی پور)، تعلقہ صدر ٹھری میر واہ محمد ادریس جوگی، جنرل سیکریٹری ٹھری میر واہ عابد حسین ملاح، ٹائون صدر سیٹھا راجا ٹھری میر واہ سرائی امداد حسین اور جماعت اسلامی سے عظیم احمد میمن، محمد سلیم دائود، سید رضوان رضا نقوی، سید فہیم زیدی، محمد افضل، عبدالرحیم، ذیشان رحیم، نارتھ ناظم آباد کے آصف عباس رضوی، محمد نجم احمد، محمد عارف، محمد تنویر احمد، محمد رضوان، عمران چوہدری، راحیل عزیز، دانش رشید، محمد فرقان الحق، گل انور اور ملیر کے ندیم میمن شامل ہیں۔

(جاری ہے)

سب سے پہلے پی ٹی آئی سندھ کے سینئر نائب صدر حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی میں شرکت کرنے والے افراد کا تعارف کروایا۔ ان کے بعد پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عظیم احمد میمن جماعت اسلامی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔ میں انہیں اور ان کی ٹیم کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ بیس سے زائد لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ آپ پی ٹی آئی کے لیے فعال کردار ادا کریں گے۔ اس کے بعد انہوں نے شرکت کرنے والوں کے نام لیے۔ سینئر مرکزی رہنما عمران اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام دوستوں کو خوش آمدید کہتا ہوں جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یقین دلاتا ہوں کہ جو سوچ کر آئے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کو اس سے بہتر پائیں گے۔

ہمارے وزیر اعظم نے فرمایا کہ کے الیکٹرک سو فیصد بلوں کی وصولی شروع کردے ، اس سے پہلے کراچی کو بجلی نہیں مل سکتی۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیرا عظم کو نہ کراچی کے مسائل کا کچھ پتہ ہے نہ انہیں اس سے کوئی دلچسپی ہے۔ پورے پاکستان کے کسی شہر سے بھی سو فیصد بل وصول نہیں ہوسکتے اور یہ اسی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہے کہ جو لوگ بلوں کی پوری پوری ادائیگی کرتے ہیں، انہیں بھی لوڈ شیڈنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ وزیر اعظم کہاں سو رہے تھے جب کے الیکٹرک پر پچھتر ارب روپے گیس کا بل چڑھ گیا۔ وزیر اعظم کہاں سو رہے تھے جب حکومت نے کے ای ایس سی کو کے الیکٹرک کے ہاتھ کوڑیوں کے مول بیچ دیا۔ اسی کے الیکٹرک نے کراچی سے اربوں روپے بنا لیے۔ دن دہاڑے چوری کی گئی۔ کاپر کو سونے کے بھائو بیچا گیا۔ جتنے کی کے الیکٹرک خریدی تھی، اتنے کا تو کاپر بک گیا اور ہم یہ سارا تماشا اپنی آنکھوں سے بیٹھ کر دیکھتے رہے۔

پورے ملک میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی کراچی خریدتا ہے اور پورے ملک میں سب سے زیادہ ذلت کے ساتھ بجلی کراچی کو دی جاتی ہے۔ بالکل ایسے جیسے بھیک اور خیرا ت دی جارہی ہو۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکٹرک سے کسی نہ کسی طرح منسلک ہیں۔ چاہے وہ آصف علی زرداری ہوں یا نواز شریف اور ان کی پارٹی، یہ کے الیکٹرک کے ساتھ منسلک ہیں۔ کبھی کسی بھی بات میں یہ لوگ ابراج گروپ کا نام نہیں لیتے۔

یہ گروپ کراچی کے شہریوں کا قاتل ہے اور آج جو گلی گلی محلے محلے میں احتجاج ہو رہا ہے، اسی کے خلاف ہو رہا ہے۔ یہ لوگ پاگل نہیں ہیں جو احتجاج کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ یہ وزیر اعظم صاحب جو چوسنی دے رہے ہیں کراچی کو کہ جب بل مکمل وصول ہوجائیں گے تو کراچی کو بجلی ملے گی، یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ آتے ہیں الٹی سیدھی ہانک کر نکل جاتے ہیں۔ مجبوراً لوگوں کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینا پڑتے ہیں۔

ایک بار پھر پی ٹی آئی سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس کی طرف دیکھ رہی ہے کہ ایک بار سوموٹو لے کر کے الیکٹرک کے معاملے کو دیکھیں۔ کاپر وائر کا مسئلہ بھی دیکھیں۔ جو میٹر انہوں نے لگائے ہیں، اگر اندر سے مین سوئچ آف بھی کردیں تو یہ چلتے رہتے ہیں۔ اب کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ اربوں ڈالر نفعے سے بیچنے کا معاہدہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں جو لوگ سرمایہ کاری کرتے ہیں، اچھی بات ہے وہ منافع کمائیں، لیکن پچھتر ارب روپے کے واجب بل سوئی سدرن گیس کمپنی کے کون واپس کرے گا۔ اسے ایسے ہی چھوڑ دیں گے تاکہ آنے والے کے سر پڑے اورآنے والا ہم سے وصول کرے۔ ایک ایک پائی ہم سے وصول کی جاتی ہے اور بجلی نہیں دی جاتی۔ سب سے مہنگی بجلی ہم خریدتے ہیں جو ہمیں دی بھی نہیں جاتی۔

ہمیں صرف چیف جسٹس سے امید ہے کہ وہ کراچی کے عوام کے ساتھ انصاف کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف اس معاملے میں مدد کے لیے اور جس حد تک ممکن ہو ،جانے کے لیے تیار ہے ورنہ ہماری مجبوری ہے ہمیں روڈ پر ہی کھڑا ہونا پڑے گا۔ پی ٹی آئی سندھ کے سینئر نائب صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمیں کل شہباز شریف ڈرامے بازی کرتے ہوئے نظر آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر میں ایک بار آنے کے بعد کراچی کو پیرس نہ بنا دوں تو میرا نام بدل دینا۔

نام تو ان کا بدلا جاچکا ہے، ایک مجرم اعظم ہیں اور یہ مجرم اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے بڑی ڈرامے بازیاں کیں۔ کراچی کے لوگ اس ڈرامے بازی میں آنے والے نہیںہیں۔ دوسری جانب شاہی سید بھی بل سے نکل کر آگئے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر کراچی میں قتل و غارت گری میں الطاف حسین کا بڑا ہاتھ ہے تو شاہی سید صاحب آپ کی گردن پر بھی سینکڑوں نوجوانوں کا خون ہے۔

ہمیں سب یاد ہے کہ آپ نے فیکٹریوں سے بچیوں کو اغوا کرا کے ان کے ساتھ کیا کیا۔ آپ نے شہر میں لسانیت پھیلائی۔ آپ تو سینیٹر بن بھی چکے ، دوبارہ کراچی کو آگ لگانے بالکل نہ آئیں۔ پی ٹی آئی میں ہر زبان بولنے والا موجود ہے اور اخوت کے ساتھ ہے۔ سندھی، مہاجر، سرائیکی، پشتون، سب پی ٹی آئی میں شامل ہیں۔ اے این پی اور پی ایم ایل این کلرز ہیں۔

جیسے کراچی میں الطاف حسین نے جرائم کی سرپرستی کی، ن لیگ نے پنجاب میں اسی طرح دہشت پھیلا رکھی ہے۔کوئی بھی کیس ہو، اس کے پیچھے ن لیگ ہوتی ہے۔ کل شہباز شریف لیاری گئے ہوئے تھے، انہیں یہاں کچھ نہیں ملا۔ پنجاب سے ان کی چھٹی ہوچکی ہے۔ براہِ کرم کراچی میں نفرتیں لے کر نہ آئیں۔ کراچی صحیح سمت میں جا رہا ہے۔ آج الگ الگ زبانیں اور قومیت رکھنے والے پی ٹی آئی میں جوق درجوق شامل ہو رہے ہیں۔

ہم کراچی سمیت پورے سندھ کی ہر سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ آخر میں پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ آج تحریک انصاف میں بائیس لوگ شامل ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ اس میں کوئی مجرم نہیں ملے گا۔ یہ سب کسی نہ کسی جماعت کے سیاسی کارکن تھے۔ کوئی پناہ کے لیے تحریک انصاف میں شامل نہیں ہورہا۔ یہ لوگ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے نصب العین اور نظریے کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی میں شامل ہو رہے ہیں۔

ماضی کی سیاسی پارٹیاں جنہوں نے بھتے لیے، قتل و غارت کی، آج ان کے قتل و غارت کرنے والے لوگ سیاسی پناہ لیتے ہیں تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ سیاست کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مجرموں کو پناہ دیں۔ سیاست عبادت ہے اور لوگوں کی خدمت کا نام ہے۔ ہم نے سب مجرموں کے لیے اپنے راستے بند کر رکھے ہیں اور باقی سب کے لیے دعوتِ عام ہے۔ پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم مظلومین کے ساتھ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے سینئر مرکزی رہنما عمران اسماعیل نے کہا ہمیں کوئی بوکھلاہٹ نہیں ہے۔ شہباز شریف دو دن کیا، دو سال بھی کراچی میں گزار لیں تو کچھ نہیں کر پائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جڑیں کراچی میں گہری ہیں۔ عمران خان نے جتنے دورے کراچی کے کیے ہیں، شہباز شریف خواب میں بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ہمیں شہباز شریف سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ الیکشن سے دو ماہ پہلے چکر لگانے سے کچھ حاصل نہیںہوگا۔ ہم کراچی سے بھرپور طریقے سے انتخاب لڑیں گے اور جیتیں گے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی اور پی ٹی آئی سندھ کے سینئر نائب صدر حلیم عادل شیخ نے پی ٹی آئی میں نئے شامل ہونے والے اراکین کو پی ٹی آئی کے فلیگز پہنائے۔