پیڈواور اے ڈی بی کے درمیان مانسہرہ کے قریب دریائے کنہار پر 300 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط

وفاقی حکومت صوبے کی مدد کرنے ،وسائل سے استفادہ کی بجائے باہر سے مہنگی ترین ایل این جی درآمد کررہی ہے، پرویز خٹک وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں پیدا شدہ 74 میگاواٹ پن بجلی کی خریداری کا معاہدہ کررہی ہے نہ ہی پیہور ہائی لیول کینال سے پیدا اور مہیا کی جانیوالی بجلی کی قیمت ادا کی جارہی ہے ، وزیراعلی خیبرپختونخوا

پیر اپریل 21:18

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے درمیان بالا کوٹ ضلع مانسہرہ کے قریب دریائے کنہار پر 645 ملین امریکی ڈالر کے تخمینہ لاگت سے صوبے کے سب سے بڑے 300 میگاواٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے معاہدے پر دستخط کردیئے گئے ۔پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں خیبرپختونخوا کے سیکرٹری خزانہ شکیل قادر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخو ا پرویز خٹک کی موجودگی میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے۔

صوبائی وزیر برائے انرجی اینڈ پاور محمد عاطف خان، چیف پلاننگ آفیسر پیڈو سید زین ا? شاہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موقع پر موجود تھے۔مجوزہ ڈیم کی سائٹ پارس گاؤں سے تین کلومیٹر نیچے اور بالاکوٹ ٹاؤن مین پل سے اوپر 17 کلومیٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔

(جاری ہے)

پاور ہاؤس دریائے کنہار سے ملنے والے سانگھڑ نالہ کے بائیں کنارے پر واقع ہو گا۔ 78 میٹر بلند کنکریٹ گریوٹی ڈیم میں 12.606 ملین مکعب میٹر سٹوریج کی استعداد ہو گی۔

کریسٹ لمبائی 250 میٹر ، ہیڈ ریس ٹنل 8420 میٹر پر مشتمل یہ ڈیم مکمل طور پر ماحول دوست ہو گاجس کی وجہ سے مقامی آبادی کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گاجبکہ توانائی کی قومی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کا سبب ہو گا۔ اس منصوبے سے سالانہ 8 ارب روپے صوبے کو حاصل ہوں گے اس کے علاوہ سالانہ 17 فیصد ریٹرن بھی متوقع ہے۔ منصوبے کا پی سی ون پہلے سے تیار کیا جا چکا ہے جو اسی ہفتے صوبائی ترقیاتی پارٹی سے منظور کراکے مرکزی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی یعنی وفاقی حکومت کوبھیج دیا جائے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک پہلے سے ہی منصوبے کیلئے مالی انتظامات کر چکا ہے جس کے بروقت اجراء میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ یہ منصوبہ 5 سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف ملک میں بجلی کا بحران ہے اور دوسری طرف خیبرپختونخوا میں ماحول دوست سستی پن بجلی پیدا کرنے کے وسائل اور استعداد موجود ہے۔

اس کے باوجود وفاقی حکومت صوبے کی مدد کرنے اور ان وسائل سے استفادہ کرنے کی بجائے باہر سے مہنگی ترین ایل این جی درآمد کررہی ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں پیدا کی گئی 74 میگاواٹ پن بجلی کے سلسلے میں خریداری کا معاہدہ نہیں کر رہی تاکہ اسے نیشنل گرڈ میں شامل کیا جاسکے اور نہ ہی پیہور ہائی لیول کینال سے پیدا اور مہیا کی جانے والی بجلی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق خیبرپختونخوا میں سستی اور ماحول دوست 15 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہے مگر وفاقی حکومت اس کی ترقی میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لے رہی۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اپنے بڑے وسائل سے 2500 میگاواٹ پن بجلی کے منصوبے پر کام شروع کر چکی ہے۔ 668 میگاواٹ کیلئے پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے۔

506 میگاواٹ کیلئے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ جبکہ 610 میگاواٹ پن بجلی کے منصوبوں کیلئے چین کے ساتھ معاہدے کئے جا چکے ہیں۔ پرویز خٹک نے مزید کہاکہ واپڈا اور وفاقی حکومت چھوٹے صوبوں میں ٹرانسمیشن لائن کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اسی وجہ سے اگر صوبے بجلی پیدا کرتے ہیں تو سسٹم اٴْس بجلی کو نیشنل گرڈ میں منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جو قابل تشویش ہے۔