پاکستان کو ہاکی ورلڈ کپ جتوانے والے سابق مایہ ناز گول کیپر منصور احمد دل کی بیماری کا شکار ،

ٹرانسپلانٹ کیلئے بھارت سے ویزا دینے کی اپیل 1989ء میں اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں بھارت کو ہرا کر یقینا کوئی ہندوستانیوں کے دل توڑے ہوں گے لیکن اب مجھے بھارت میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے جس کے لیے مجھے بھارتی حکومت کی مدد درکار ہے‘ گفتگو

پیر اپریل 21:21

پاکستان کو ہاکی ورلڈ کپ جتوانے والے سابق مایہ ناز گول کیپر منصور احمد ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پاکستان کو ہاکی ورلڈ کپ جتوانے والے سابق مایہ ناز گول کیپر منصور احمد ان دنوں دل کی بیماری کا شکار ہیں اور دل کے ٹرانسپلانٹ کے لیے انہوں نے بھارت سے ویزا دینے کی اپیل کر دی ہے۔49سالہ منصور کئی ہفتوں سے دل کی سنگین بیماری کا شکار ہیں اور ان کے دل میں اسٹنٹس بھی لگائے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی حالت میں بہتری نہیں آئی اور اب انہیں دل کے ٹرانسپلانٹ کی اشد ضرورت ہے۔

منصور احمد نے 1994ء میں سڈنی میں کھیلے گئے ہاکی ورلڈ کپ فائنل میں ہالینڈ کے خلاف شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پینالٹی اسٹروک روک کر پاکستان کو عالمی چمپئن بنوایا تھا۔منصور احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 1989ء میں اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں بھارت کو ہرا کر یقینا کوئی ہندوستانیوں کے دل توڑے ہوں گے لیکن وہ کھیل کا حصہ تھا تاہم اب مجھے بھارت میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے جس کے لیے مجھے بھارتی حکومت کی مدد درکار ہے۔

(جاری ہے)

2008ء میں ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیل اور ثقافتی تعلقات بری طرح متاثر ہوئے تھے لیکن ان خراب تعلقات کے باوجود بہترین طبی سہولیات کے سبب بھارت میں علاج کے خواہشمند پاکستانیوں کو بھارتی ویزا جاری کیا جاتا رہا ہے۔1986ء سے 2000ء کے درمیان 338 انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے منصور احمد نے تین اولمپکس سمیت متعدد عالمی ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی اور ٹیم میں جیت اپنا کردار ادا کرتے رہے۔سابق پاکستانی وکٹ کیپر نے کہا کہ انسانیت سب سے بڑھ کر ہے اور اگر مجھے بھارتی ویزا اور دیگر امداد ملتی ہے تو میں بہت شکرگزار ہوں گا اور میرے خیال میں دونوں ملک کھیلوں کے ذریعے اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں۔