حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے تمام شراکت داروں سے مشاورت کر لی ہے،

نئے بجٹ میں اقتصادی استحکام اور نمو پر توجہ مرکوز کی جائے گی،حکومتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جائے گی وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل کیقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کو بریفنگ

پیر اپریل 21:26

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے تمام شراکت داروں سے مشاورت کر لی ہے، نئے بجٹ میں اقتصادی استحکام اور نمو پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ وزارتوں، ڈویژنوں، چیمبرز، ایسوسی ایشن اور دیگر شراکت داروں سے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں تجاویز حاصل کی گئی ہیں، بجٹ سازی کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ بجٹ دستاویز آئندہ دو دنوں میں تیار ہو جائے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور اس حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

کمیٹی کے ارکان کے اس استفسار پر کہ موجودہ حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ کیوں پیش کر رہی ہے جبکہ اس پر عملدرآمد اگلی حکومت نے کرنا ہے، وزیر مملکت نے کہا کہ بجٹ پورے سال کے لئے گائیڈ لائنز فراہم کرتا ہے، یہ اگلی حکومت پر منحصر ہو گا کہ وہ اسی بجٹ پالیسی کو جاری رکھتی ہے یا اسے تبدیل کرتی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے تجویز دی کہ حکومت کو صرف چار ماہ کے لئے بجٹ پیش کرنا چاہیے اور باقی عرصے کو نئی حکومت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

وزیر مملکت نے بجٹ کو پری پول دھاندلی قرار دینے کے تاثر کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری منصوبوں پر فوکس کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ممبران پی ایس ڈی پی میں نئے منصوبوں کی شمولیت کے مخالف ہیں تو وہ اس معاملے پر حکومت کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر سپیشل سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو آئندہ بجٹ کے مختلف خدوخال کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ رواں مالی سال کے دوران شرح نمو 5.8 فیصد رہے گی اور اگر مینوفیکچرنگ کے شعبہ نے بہتر کارکردگی جاری رکھی تو شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک گزشتہ 13 سالوں کے دوران 5.6 فیصد بلند ترین شرح نمو ہے، آئندہ مالی سال کے لئے ہدف 6.2 فیصد رکھا جا سکتا ہے، اسی طرح افراط زر بھی مقررہ حدود کے اندر ہے جبکہ ایف بی آر کے محصولات بھی اہداف کے مطابق حاصل ہونے کی توقع ہے، ملکی برآمدات میں مثبت نمو دیکھی گئی ہے جو ملکی معیشت کے لئے اچھی علامت ہے۔ توقع ہے کہ جاری خسارہ میں بھی کمی ہو گی۔

اجلاس میں قائمہ کمیٹی نے فارن ایسیٹس (ڈکلیئریشن اینڈ ری پیٹری ایشن) بل 2018ء ایک ترمیم کے ساتھ منظور کر لیا جبکہ ممبران کی اکثریت نے والنٹیئرلی ڈکلیئریشن آف ڈومیسٹک ایسیٹس بل 2018ء اینڈ انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2018ء مسترد کر دیا۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی اسد عمر،، شیخ فیاض الدین، نفیسہ شاہ، مصطفی محمود، عبدالرشید گوڈیل کے علاوہ وزارت خزانہ و ایف بی آر کے حکام اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔