پنجاب پولیس اور ڈی جی انٹی کرپشن کی ملی بھگت

اٹک شہر میں سیاسی شخصیات کی پشت بناہی میں بااثر قبضہ مافیا نے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی جعلی دستاویزات پر فروخت کر دی

پیر اپریل 22:44

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) پنجاب پولیس اور ڈی جی انٹی کرپشن کی ملی بھگت سے اٹک شہر میں سیاسی شخصیات کی پشت بناہی میں بااثر قبضہ مافیا نے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی جعلی دستاویزات پر فروخت کر دی ۔ ڈی پی او اٹک اور ڈی انٹی کرپشن مظفررانجھا کے حکم پر مقدمات درج ہونے کے باوجود ملزمان کھلے عا م دھندننے لگے ۔ جبکہ اے ایس آئی سجاد اور سب انسپکٹر حیات نے متاثرہ خاندان کو سیاسی شخصیات کے دباؤ کی وجہ سے حیراساں کر نا شروع کر دیا ہے عدالت عالیہ لاہور کے حکم نامے کے باوجود سول مارکیٹ میں خاتون کی اراضی پر قبضہ کرنے اور حملہ آور ہونے کی دفعات کے تحت قبضہ مافیہ کے سرٖغنہ طاہر جاوید اعوان کے خلاف مقدمہ نمبر147 تھانہ سٹی اٹک میں درج کیا گیا لیکن پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے باوجود متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے علاقے میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے او رملزم کھلے عام چیئر مین میونسپل کمیٹی کے نام پر شہریوں کی اربوں روپے اراضی ہتھیانے اور ریڑھی والوں سے سرعام بھتہ وصولی کر رہا ہے اور تھانہ سٹی پولیس او ر شہر کی بااثر شخصیات نے اپنا اپنا حصہ مذکورہ بالا خوسر باز سے وصول کر کے اس کی پشت بناہی شروع کر دی ہے اس حوا لے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈی اینٹی کرپشن مظفر رانجھا کی پشت بناہی کی وجہ سے درج مقدمے کے باوجود کارروائی کرنا تودرکنار مقدمے کی افراد اپورٹ بنانے کے لئے ماتحتوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

گزشتہ ہفتے کے روز عدالت کی جانب سے کمیشن مقرر کیا گیا تھا جس کی سربراہی شبیر احمد کر رہے تھے کمیشن نے جائے وقوعہ پر جانے کے لئے ڈی پی اور اٹک سے سیکیورٹی طلب کی لیکن ڈی پی او اٹک نے سیکیورٹی دینے سے انکار کر دیا بعد ازاں عدالتی کمیشن کی موجودگی میں طاہر جاوید اعوان اور ان کے مسلح ساتھیوں نے حملہ کرتے ہوئے خالد رشید نامی شہری کو شدید زخمی کر دیا اٹک پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے باوجود ملزم اور اس ڈی جی انٹی کرپشن مظفررانجھا سے موقف جاننے کے لئے کئی بار رابطہ کیا گیا لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔