تھانہ سٹی اٹک کی حدود میں ایڈیشنل سیشن جج کی رہائش گاہ کے قریب 4 نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے معروف پراپرٹی ڈیلر ملک راشد محمود کو دن دیہاڑے لوٹ لیا

پیر اپریل 22:44

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) تھانہ سٹی اٹک کی حدود میں ایڈیشنل سیشن جج کی رہائش گاہ کے قریب 4 نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اٹک کے معروف پراپرٹی ڈیلر ملک راشد محمود کو دن دیہاڑے لوٹ لیا ، تفصیلات کے مطابق ملک راشد محمود ساکن ماڑی کنجور تحصیل و ضلع اٹک نے تھانہ سٹی اٹک میں بیان کیا کہ میں پراپرٹی کا کام کرتا ہوں صبح 10 بج کر 45 منٹ پر میں ریلوے روڈ سے اپنی کار نمبر AK-7 وٹز پر اٹک شہر آ رہا تھا کہ جب محمد خان المعروف کمانڈو کے گھر کے پاس پہنچا تو عمران ساکن مرزا نامی شخص نے مجھے روک کر سلام کیا اتنے میں چار افراد موٹر سائیکلوں پر سوار آ گئے اور آگے اور پیچھے موٹر سائیکل کھڑے کر لیے ، میری گاڑی کے ڈیش بورڈ میں 17 لاکھ 25 ہزار کی رقم پڑی ہوئی تھی جو میں نے فوراً نکال کر پسنجر سیٹ کے نیچے پھینک دی جو میں بینک میں جمع کرانے جا رہا تھا اسی اثناء میں ایک شخص میرے قریب پہنچ گیا اور پسٹل کنپٹی پر رکھ کر کہا کہ دوسری طرف ہو جائو ، میں خاموشی سے پیسنجر سیٹ پر چلا گیا اور وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ دوسرا شخص مسلح پسٹل پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا اور کہا کہ رقم نکال دو میں نے اپنا پرس ڈاکوئوں کے حوالے کر دیا جس میں 41 ہزار روپے ، اے ٹی ایم اور دیگر کارڈز موجود تھے ڈاکوئوں نے کہا کہ باقی رقم بھی نکالو ، باہر کھڑے افراد نے کہا کہ اس کے گھر کی طرف چلو سب ڈاکو اٹک کے لہجے میں پنجابی بول رہے تھے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ڈاکو گاڑی کو چلا کر میرے گھر کی جانب لے جانے لگا جبکہ موٹر سائیکل پر بیٹھے دیگر افراد ہمارے پیچھے آنے لگے راستے میں مجھے ملک ربنواز اور عمران بلوچ ولد غلام سرور بھی ملے جنہوں نے مجھے دور سے سلام کیا مگر میں انہیں کوئی اشارہ نہیں کر سکتا تھا کیونکہ پیچھے بیٹھے ہوئے ڈاکو نے پسٹل میری پسلی میں لگا رکھا تھا چاروں ڈاکو مجھے میرے گھر کے پاس لے گئے اور کہا کہ بیگم کو کہو کہ رقم لے کر آئے میں نے کہا کہ رقم گھر پر نہیں ہے اسی دوران پیچھے بیٹھے ڈاکو نے سیٹ کے نیچے سے رقم نکال لی اسی دوران وہ مجھے کہتے رہے کہ تم ایک اچھے انسان ہو روزانہ جانے سے پہلے بچوں کو چکر بھی لگواتے ہو اور آئس کریم کھلانے بھی لے جاتے ہو تمہارے لئے بہتر ہو گا کہ گاڑی کے معاملات گاڑی میں ہی رہ جائیں اسی دوران انہوں نے گاڑی فوراً دوڑا دی اور موضع ماڑی سکول کے پاس سے جا کر واپس مجھے اٹک شہر کی طرف لے آئے اور آٹا مشین کے پاس گاڑی میں چھوڑ کر میرے موبائل کی بیڑیاں نکال ساتھ لے گئے اور موبائل چھوڑ کر بھاگ گئے ڈاکوئوں کو سامنے آنے پر پہچان سکتا ہوں کیونکہ وہ زبان اور حلیہ سے اٹک کے علاقہ کے ہی لگتے ہیں ڈاکو مجھ سے بینک میں فون بھی کراتے رہے جس کا ریکارڈ موجود ہے مجھے اس کے پیچھے کسی بڑی سازش کے اثار نظر آتے ہیں کیونکہ یہ وقوع باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ نظر آتا ہے ۔