کٹاس راج مندر کی جھیل سیمنٹ فیکٹری کی وجہ سے خشک ہوئی ،ْسی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بند کر دیتے ،ْچیف جسٹس

دریا سے پانی لانے کے لیے دو سال کا عرصہ لگے گا اور اس پر دو ارب روپے کی لاگت آئے گی ،ْ سیمنٹ فیکٹری کے وکیل کی گفتگو فیکٹری مالکان مسائل کا حل نکالیں، نہیں تو فیکٹری بند کرنے کا آپشن بھی موجود ہی ،ْچیف جسٹس کی ہدایت

پیر اپریل 22:48

کٹاس راج مندر کی جھیل سیمنٹ فیکٹری کی وجہ سے خشک ہوئی ،ْسی پیک نہ ہوتا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کٹاس راج مندر کی جھیل سیمنٹ فیکٹری کی وجہ سے خشک ہوئی ،ْسی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بند کر دیتے۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کٹاس راج مندر کیس کی سماعت ہوئی جس میں سیمنٹ فیکٹری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سیمنٹ فیکٹری اب چھ کی بجائے دو ٹیوب ویل استعمال کر رہی ہے ،ْدریا سے پانی لانے کے لیے دو سال کا عرصہ لگے گا اور اس پر دو ارب روپے کی لاگت آئے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فیکٹری ہر سال 7 ارب روپے کا پانی استعمال کرتی ہے ،ْماحولیاتی ایجنسی کو زیرِ زمین پانی کے استعمال کی اجازت دینے کا اختیار نہیں، جن افسروں نے اجازت دی انہیں چھوڑیں نہیں گے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ فیکٹری مالکان مسائل کا حل نکالیں، نہیں تو فیکٹری بند کرنے کا آپشن بھی موجود ہی بنچ نے ریمارکس دئیے کہ یہ صرف کٹاس راج کا معاملہ نہیں، پورے پاکستان میں ایک پیسہ دئیے بغیر زیرِ زمین پانی استعمال ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

کمپنی سی او نے کہا کہ اداروں سے اجازت لے کر پانی استعمال کیا جس پر عدالت نے کہا کہ انہیں بھی لے آئیں جنھوں نے پانی کی اجازت دی ،ْکیوں نہ معاملہ نیب کو بھیج دیں۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ رات مجھے پیغام آیا کہ فیکٹری مالکان میری ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہے ہیں ،ْہو سکتا ہے کسی نے مذاق کیا ہو ،ْ کیس کی سماعت منگل کو بھی جاری رہے گی۔