سپریم کورٹ نے جیونیوز کے ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے پر پانچ رکنی کمیٹی قائم کردی

پیر اپریل 23:09

سپریم کورٹ نے جیونیوز کے ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے پر ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن کے سفارشات پرعملدرآمدکے حوالے سے کیس میں جیونیوز کے ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے پر سینئرصحافی حامد میر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کردی ہے اور جیوچینل کے مالک کوملازمین کی تنخواہوں کامسئلہ ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ لائسنس یافتہ چینل کوبزورقوت کسی جگہ بند نہیں کیا جاسکتا، اگر حکومت نے چینل کے واجبات ادانہیں کئے تو عدالت پوچھ سکتی ہے۔

پیرکوجسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںجسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر جیوچینل کے مالک میرشکیل الرحمان عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت سے گزشتہ سماعت پرخاضر نہ ہونے پر معافی مانگی ،تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ ملک کے سب سے بڑے میڈیا ادارے کے مالک ہونے کے دعویدار ہیں، لیکن آپ کے ادارے کے لوگوں کوتنخواہیں تک نہیں مل رہیں،آخر کیا وجہ ہے کہ آپ کے ادارے کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں ،جس پر میرشکیل الرحمان کاکہنا تھا کہ میں اپنے ورکروں سے شرمندہ ہوں اور ان سے معافی مانگتا ہوں میرافرض بنتا ہے کہ وقت پر ملازمین کو ان کا حق ادا کروں، لیکن اگرعدالت اجازت دے تو تنخواہیں ادا نہ کرنے کی وجہ بتا سکتا ہوں۔

(جاری ہے)

ان کاکہناتھا کہ ہم نے حکومت سے اشتہارات کے پیسے لینے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت نے ہمارے اشتہارات بند کئے ہیں، پہلے ادارہ بند بھی رہا ، جواب کھل چکا ہے، لیکن بندش کی وجہ سے ادارے کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہا کہ کاروباری خسارہ توہوجاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ملازمین کی تنخواہیں بند کردیں، سوال یہ ہے جہ جب ملازمین کوتنخواہیں نہیں ملیں گی تووہ اپنے گھر کے اخراجات کیسے چلائیں گی ہیمں بتایاجائے کہ کیاکبھی کسی ادارے نے اپنی جائیداد فروخت کرکے ملازمین کوتنخواہیں اداکی ہیں، جسٹس اعجازالحسن نے ان سے کہاکہ آپ ہمیںیہ بھی بتائیںکہ جنگ اور جیوکاماہانہ سیلری بل کتنا بنتاہے اورآمدن کتنی ہے تومیرشکیل الرحمن نے کہاکہ میرے علم میں درست اعداد وشمار تو نہیں لیکن اندازہ ہے کہ جیوکابل 25کروڑ ہے ، ہم ملازمین کو 78 فیصد ادائیگیاں کر چکے ہیں، لیکن استدعا ہے کہ ہمیں اس معاملے پر3 ماہ کا وقت د یاجائے۔

جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آپ کووقت دیا جائے تو3 ماہ کے دورا ن ملازمین کیسے گزارہ کریں گے ،ہمارے لئے آپ کو تین ماہ کا وقت دینا ممکن نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ پیٹ لگا ہے۔انہوں نے اسکول اور ڈاکٹرز کی فیس بھی ادا کرنا ہو ںگی، ایسے موقعوں پر تو رشتے دار بھی ساتھ نہیں دیتے۔ جبکہ آپ اپنے ملازمین کے مالک نہیں بلکہ کفیل ہیں اورکفیل بن کرہی رہیں ، جس پرمیرشکیل الرحمن نے ان سے کہا کہ وہ عدالت کے ایک ایک لفظ سے اتفاق کرتے ہیں لیکن اگرآمدن نہیں ہو گی تو تنخواہیں کیسے ادا کروں گا۔

میرشکیل الرحمان نے عدالت سے کہا کہ عدالت واجبات نہ ملنے کے معاملہ کا ازخود نوٹس لے ، جس پرچیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ہم نے مزیدازخود نوٹس لینا بند کر دئیے ہیں، کیونکہ جو ازخود نوٹس اب تک لئے ہیں پہلے ان کونمٹائیں گے، عدلیہ کسی کے خلاف نہیں ہے، اگر آپ احترام دیتے ہیں تو عدلیہ بھی احترام کرتی ہے، تاہم آپ کے اس معاملے کومجموعی طور پر انسانیت کے حوالے سے لے لیتے ہیں اگرآپ کاپیسہ رکا ہوا ہو تو عدالت اس کو دیکھ لیتی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ میر شکیل آپ کا ادارہ کہاں کہاں سے بند کیا گیا ہے ہمیں بتائیں، جب آپ کے پاس لائسنس ہے توبزور قوت آپ کے چینل کو کسی جگہ بند نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ ہم واضح کرتے ہیں کہ چاہے آپ ادھار لیں یا کسی سے پیسہ مانگیں، ملازمین کوتنخواہیں ضرور اداکریں، لیکن اگرخیبرپختونخوا حکومت آپ کو اشتہار نہیں دیتی تو ہم مجبور ہیں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ان سے کہاکہ جیونیوزصرف حکومتی اشتہارات پرنہیں چلتا یہ تو ایک کمرشل ادارہ ہے ، چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ اشتہارات پرصرف تصویرکی حد تک پابندی لگائی گئی ہے لیکن ہم نے کسی حکومت کواشتہار دینے سے منع نہیں کیا۔ بعد ازاں عدالت نے جیو نیوز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملہ پر کمیٹی قائم کردی جس میں جیو نیوز کے دو رپورٹر اور دو انتظامیہ کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔