لاہور،زہریلے پانی سے سبزیاں اگانے پر زمین دار اور مضارعے پرمقدمہ درج کروانے کا فیصلہ

زہریلی سبزیاں ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی موذی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں، ڈی جی فوڈ اتھارٹی

پیر اپریل 23:09

لاہور۔23 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے تمام آپریشنز ٹیموں کورمضان سے قبل پنجاب بھر میں سیوریج کے پانی سے اگنے والی سبزیا ں ہل چلا کر تلف کرنے کی مہم میں تیزی کی ہدایات جاری کر دیں۔قوانین کی خلاف ورزی پر زمین دار اور مضارعے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان سے قبل سیوریج کے پانی سے اگنے والی سبزیا ں ہل چلا کر تلف کرنے کے پیش نظر آپریشن ٹیموں کو ہدایات کی گئیں ہیں ، اس سلسلے میں صوبہ بھر میں 8 ہزار کنال سبزیوں کی چیکنگ کی گئی ہے، سیوریج کے پانی سے اگائی جانے والی 546 کنال ایریا میں سبزیاں ہل چلا کر تلف کر دی گئیں ہیں ، لاہور اور اس کے مضافات میں 3 ہزار کنال سبزیوں کی چیکنگ کی گئی اور 189 کنال ناقص سبزیاں تلف کر دی گئیں، راولپنڈی ڈویژن بھر میں سیوریج کے زہریلے پانی سے اگائی گئی 146 کنال سبزیاں تلف کی گئیں، اسی طرح وہاڑی میں64 کنال، لودھراں میں 24 ، ملتان میں 39، راجن پور میں 23 کنال زہریلی سبزیاں ہل چلا کر تلف کر دی گئیں۔

(جاری ہے)

مظفر گڑھ میں 20کنال، ڈی جی خان میں 31 کنال سبزیاں تلف کی گئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زہریلے پانی سے ہری مرچ ،لوکی ،ٹماٹر، پالک، گوبھی، کدو اور پیاز اگائے جا رہے تھے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ایکشن کے بعد زیادہ تر علاقوں میں ٹیوب ویل کے پانی سے سبزیاں اگائی جا رہی ہیں۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے مزید واضح کیا کہ زہریلے پانی سے اگائی جانے والی سبزیوں سے ہیپاٹئٹس اور کینسر جیسی موذی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ قوانین کی خلاف ورزی پر زمین دار اور مضارعے دونوں کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوان :