انتہاپسندی کا تعلق کسی صورت مذاہب کے بنیادی تصور سے نہیں ہے،ڈاکٹرعبدالقدوس

پیر اپریل 23:20

ملتان ۔23 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) شعبہ علوم اسلامیہ بہاء الدین زکریایونیورسٹی ملتان میں بین المذاہب رواداری اور ہم آہنگی کا فروغ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار سے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس صہیب نے پیغام پاکستان پر لیکچر دیتے ہوئے کہاکہ مذاہب کی حقیقی تعلیمات رواداری، برداشت اور مفاہمت پر مبنی ہی․ تنگ نظری اور انتہاپسندی کا تعلق کسی صورت مذاہب کے بنیادی تصور سے نہیں ہی․ اس لیے پاکستان کے معاشرے میں موجود تمام مذاہب کے افراد کو سماجی معاملات میں باہمی تعاون کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنانا چاہیی․ ․انہو ںنے مزید کہا کہ اپنی رائے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رائے کا احترام کرنا بھی مذہبی رواداری کا بنیادی اصول ہی․سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فادر ڈاکٹر جمشید البرٹ نے کہا کہ خدا نے عقل اور حکمت دی ہے تمام مذاہب میں بنیادی طور پر ایمان امید اور محبت کا پیغام ملتا ہی․ مذہبی رواداری کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہی․شان سسل چوہدری نے کہاکہ الہامی کتابیں ، خدا تک پہنچنے کا ذریعہ اور انسانیت میں رواداری اور محبت کے پیغام کی علم بردار ہیں․ ایسے سیمینار سے طلباء طالبات کو دیگر مذاہب کے بارے آگاہی ملتی ہے جس سے رواداری کا کلچر پروان چڑھتا ہی․ ڈاکٹر جمیل نتکانی نے کہاکہ اپنی رائے پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کی رائے کا احترام کرنا ہوگا․ ہمیں محتاط رہنا ہوگا․ بیرونی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان میں رواداری اور برداشت کو فروغ دینا ہوگا․سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر فریدہ یوسف نے سرانجام دیے اور فیکلٹی ممبران اور طلباء طالبات نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :