بھر تیوں پر پابندی کے اختیار سے متعلق ازخود نوٹس کیس، کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی لگائی گئی،الیکشن کمیشن کے پاس پابندی لگانے کا اختیار کہاں سے آگیا،وضاحت ضروری ہے،سپریم کورٹ

پیر اپریل 23:29

بھر تیوں پر پابندی کے اختیار سے متعلق ازخود نوٹس کیس، کس قانون کے تحت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) سپریم کورٹ نے عام انتخابات کے پیش نظر الیکشن کمیشن کی جانب سے بھر تیوں پر پابندی کے اختیار سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت آج منگل کی صبح تک ملتوی کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ اس معاملے کی وضاحت ہونی چاہیے کہ کس قانون میں سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر پابندی لگانے کا اختیار دیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کے پاس کہاں سے پابندی لگانے کا اختیار آگیا ہے ، پیرکو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، اس موقع پر الیکشن کمیشن کے سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے۔

توچیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ، ا س وقت ملک کے اہم ترین اداروں میں سربراہان کی تقرریوں کا عمل جاری ہے، ہمیںبتایاجائے کہ کیا الیکشن کمیشن کی پابندی کا اطلاق ان اداروں پر بھی ہوگا۔

(جاری ہے)

، جس پرسیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بعض بھرتیوں پر اجازت مانگ لی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے بتائیں کہ الیکشن کمیشن کے پاس پابندی لگانے کا اختیار کہاں سے آگیا اور بھرتیوں پر پابندی کا اختیار کس قانون میں دیا گیاہے۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ آرٹیکل218کے تحت الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف انتخابات کاانعقارد یقینی بنائے اور الیکشن ایکٹ 217 بھی الیکشن کمیشن کویہ اختیارات حاصل ہیں۔

توچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے سے پہلے کیا ایسا حکم دیا جاسکتا ہے،کیا اس طرح کا فیصلہ حکومت کے امور کو متاثر نہیں کرے گا اور کیا الیکشن کمیشن کے ایسے اختیار سے متعلق کوئی عدالتی فیصلہ موجود ہے۔ ہم نے جو ازخود نوٹس لیا ہے ا س کا مقصد بھی یہ ہے کہ الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور آئندہ انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہیں۔

چیف جسٹس نے قراردیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں پر جو پابندی لگائی گئی ہے اس فیصلے کی وضاحت ضروری ہے بعدازاں عدالت نے اٹارنی جنرل اور تمام ایڈووکیٹس جنرلز کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت آج (منگل) تک کے لئے ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 11 اپریل کو عام انتخابات کے پیش نظر سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی ہے ۔ جس کے مطابق وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے اداروں میں بھرتیوں پر پابندی ہوگی جس کا اطلاق یکم اپریل 2018 ء سے ہوگا۔ تاہم بھرتیوں پر پابندی کا اطلاق وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے تحت ہونے والی بھرتیوں پر نہیں ہوگا۔