امریکا کی افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں ریکارڈ اضافہ

منگل اپریل 09:40

․ واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں گذشتہ 15 برسوں کے دوران سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کبھی اتنے بم نہیں گرائے گئے جتنے امریکی قیادت والے اتحاد نے رواں سال کے پہلے تین مہینوں میں گرائے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی فضائی افواج کی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد کے مطابق 2018ء کے پہلے تین ماہ کے دوران اتحادی لڑاکا طیاروں نے افغانستان میں 1186 بم گرائے۔

اس ضمن میں گزشتہ ریکارڈ 2011ء کا ہے جب لڑائی زوروں پر تھی اور 1083 بم گرائے گئے تھے۔ امریکا نے 2001 اور 2003 کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔مزکورہ اعداد میں وہ ڈیٹا شامل نہیں ہے جو کارروائیاں افغان فضائی فوج’’’اے اے ایف‘‘ کرتی رہی ہے، جس نے دو برس قبل فضائی حملوں کی صلاحیت حاصل کی تھی، افغان وزارتِ دفاع کے مطابق، افغان ایئر فورس روزانہ 4 سے 12 فضائی کارروائیاں کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

امریکی فوج کے تازہ ترین اندازے کے مطابق، حکومتِ افغانستان کو ملک کے محض 56 فیصد اضلاع پر کنٹرول حاصل ہے، جب کہ باغی باقی علاقے پر قابض ہیں یا پنجہ آزمائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔اقوام متحدہ کے مطابق 2018ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران متواتر دوسرے سال شہری آبادی کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہا۔ جنوری سے مارچ تک 763 شہری ہلاک جب کہ 1495 زخمی ہوئے۔