مغربی میڈیا یمن جنگ کے حوالے سے غلط معلومات پیش کررہا ہے ،سعودی عرب

1985ء سے 2005ء تک کلسٹر بم خرید کیے تھے مگر وہ اب پرانے ہوچکے ہیں،وزیرخارجہ کا خطاب

منگل اپریل 12:19

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ بعض مغربی ذرائع ابلاغ اپنی رپورٹس میں یمن کی صورت حال کے حوالے سے غلط معلومات پر انحصار کرتے ہیں جس کے نتیجے میں حوثی باغیوں کو اپنے جرائم کو چھپانے کا موقع مل رہا ہے۔۔جرمن ریڈیو کے مطابق لندن میں ایک تقریب سے خطاب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں جعلی خبر شائع کی گئی کہ یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب فوجی اتحاد عالمی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بموں کا استعمال کررہا ہے۔

میڈیا کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پر الزام لگایا گیا کہ یمن کی جنگ میں برطانوی ساختہ کلسٹر بم استعمال کیے۔ میں یہ استفسار کرتاہوں کہ ہمارے پاس ایسا اسلحہ ہے ہی نہیں تو ہم نے اسے کیسے استعمال کیا۔

(جاری ہے)

عادل الجبیر نے کہا کہ ہم نے 1985ء سے 2005ء تک کلسٹر بم خرید کیے تھے مگر وہ اب پرانے ہوچکے ہیں، زاید المیعاد ہونے کے باعث اب وہ ناکارہ ہیں۔

اس کے علاوہ سعودی عرب کلسٹر بموں اور بارودی سرنگوں کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کے معاہدے کا حصہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ سے خریدے گئے جو جنگی طیارے کلسٹر بموں کے استعمال کی صلاحیت رکھتے تھے انہیں جدید اسلحے کے استعمال کے قابل بنانے کے لیے ان کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا ہے۔ اگر ہمارے پاس کلسٹر بموں کا ذخیرہ موجود بھی ہے توہم اسے استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ موجودہ جنگی طیاروں میں ان کے استعمال کا نظام موجود نہیں۔