پیرس حملوں کے ملزم عبدالسلام کو برسلز مقدمے میں بیس سال قید

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ملزمان کی بنیاد پرستانہ سوچ کی جڑیں بہت گہری ہیں،عدالت کا فیصلہ

منگل اپریل 12:24

پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) 2015میں پیرس کے دہشت گردانہ حملوں کے واحد زندہ مشتبہ ملزم صالح عبدالسلام کو بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کی ایک عدالت نے دہشت گردانہ محرکات کے تحت اقدام قتل کے ایک علیحدہ مقدمے میں بیس سال قید کی سزا سنا دی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق صالح عبدالسلام 2015ء میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں کیے گئے سلسلے وار دہشت گردانہ حملوں کا واحد زندہ مشتبہ ملزم ہے، جس کے خلاف ان الزامات کے تحت مقدمے کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

آج پیر تئیس اپریل کو برسلز میں ایک عدالت نے اسے ایک علیحدہ مقدمے میں قصور وار قرار دیتے ہوئے بیس سال کی سزائے قید کا حکم سنا دیا۔ اس پر یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ وہ دہشت گردانہ حملے کی سوچ کے تحت اقدام قتل کا مرتکب ہوا تھا۔بلجیم کی اس عدالت نے اسی مقدمے میں صالح عبدالسلام کے ایک ساتھی ملزم، چوبیس سالہ سفیان عیاری کو بھی، جو تیونس کا شہری ہے، اسی نوعیت کے الزام میں 20 سال سزائے قید کا حکم سنا دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہاکہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ملزمان کی بنیاد پرستانہ سوچ کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

متعلقہ عنوان :