شارجہ میں 20 سال سے رہائش پذیر خاندان کا راز

Sadia Abbas سعدیہ عباس منگل اپریل 12:01

شارجہ میں 20 سال سے رہائش پذیر خاندان کا راز
شارجہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) شارجہ میں ایک پاکستانی خاندان کی دو نسلوں سے ایک عمارت میں کباب کی دکان چلا رہا ہے ۔ جس کی تلاش میں گلف نیوز کی رپورٹر شارجہ کی گلیوں میں تلاش کرنے نکل پڑیں اور آخر کار اس تک پہنچ ہی گیئں ۔ پاکستانی خاندان نے یہ دکان شارجہ کی ٹینا کے علاقے میں کھول رکھی ہے ۔ دکان کے مالک نے گلف نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اسکے والد محمد لقمان دبئی میں ایک قصائی کی دکان پر کام کرنے کے لیے پاکستانی کے صوبے خیبر پختون خواہ کے شہر کوہاٹ سے آئے تھے اور یہاں آکر انھوں نے دیکھا کہ انکی طرح بہت سے دوسرے پٹھان بھی کام کرنے کی غرض سے موجود ہیں اور کھانے کے لیے جب وہ پاکستانی کھانے کی تلاش میں نکلتے ہیں تو انھیں یا تو پاکستانی کھانے ملتے نہیں تھے اور اگرملتے بھی ہیں تو وہ اس قدر مہنگے ہوتے ہیں کہ وہ اسے خرید نہیں پاتے تھے ۔

(جاری ہے)

پاکستانیوں کو ان کے ہی ملک کے کھانوں کا ذائقہ پردیس میں مناسب قیمت میں مہیا کرنے کے لیے اس کے والد محمد لقمان نے کباب کی ایک دکان کھولی اور3 درہم میں ایک کباب پیچنا شروع کر دیا ۔محمد لقمان کے بیٹے حافظ الرحمنٰ نے گلف نیوز کو بتایا کہ اسکا خاندان گزشتہ 20 سال سے ال عاشیہ کیفڑیا کے نام سے یہ دکان چلا رہا ہے ۔ دکان کے مالک کا کہنا تھا کہ اسکے والد محمد لقمان نے 1997 میں شارجہ میں یہ دکان کھولی تھی اور وہ تب سے اب تک وہ اپنے والد کے بعد یہ دکان چلا رہا ہے ۔

دکان کے مالک نے گلف نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ شارجہ میں ہی پیدا ہوا تھا اور اسنے اپنی پوری زندگی اپنے والد کو شارجہ میں رہنے والے غیر ملکی ایشائی شہریوں کو کباب فروخت کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اسنے مزید بتایا کہ وہ اپنی دکان میں 5 درہم میں رات کا کھانا پیش کرتے ہیں جو کہ ایک روٹی ، سلاد اور ایک کباب پر مشتمل ہوتا ہے جسکی قیمت اس سے پہلے صرف تین درہم تھی ۔ انکا کا کہنا تھا کہ اسنے یہ قیمت میں اضافہ متحدہ عرب امارات میں دن بدن ہونے والی مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے ۔ پاکستانی خاندان اپنی اس چھوٹی سی دکان میں کس کس طرح کے کھانے پیش کر رہا ہے ۔ ویڈیو ملاحظہ کریں :