کٹھ پتلی انتظامیہ کشمیرکی نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے محروم کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہی ہے، سیدعلی گیلانی

حریت چیئرمین اور اشرف صحرائی کی طرف سے آسیہ اندرابی اورنکی ساتھیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت

منگل اپریل 13:22

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ علاقے کی مجموعی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے کوچنگ سینٹروں کو بند کر کے نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے محروم کرنے کی گھنائونی سازش پر افسوس ظاہر کیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے پورے مقبوضہ علاقے بالخصوص وادی کشمیر میں پرائیویٹ کوچنگ سینٹروں کو بند کرنے کے نام نہاد حکومتی اعلان کو تاناشاہی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی انتظامیہ ہندو انتہاپسندتنظیم آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوکر کشمیرکی نوجوان نسل کو زیور تعلیم سے محروم کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہی ہے۔

انہوںنے کہاکہ انتظامیہ ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ نے اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ہندو انتہاپسند تنظیموں شیوسینا اور آر ایس ایس کے سامنے اپنی خوداختیاری کو گروی رکھ دیا ہے اور کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے کیلئے ناگپور سے احکامات صادر کئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے افسوس ظاہر کیاکہ موجودہ نااہل حکومت بھی اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح نوجوانوںکو اپنے ظالمانہ اور جابرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے دیوارکے ساتھ لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے اور اُلٹاپتھرائو سمیت جھوٹے الزامات نوجوانوں بالخصوص طلباء پر لگا نے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتی۔

سیدعلی گیلانی نے پرائیویٹ ٹیوشن مراکز کی طرف سے طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی انتھک کوششوں کو قابل ستائش قرار دیا۔انہوںنے نام نہاد حکمرانوں کے ذریعے جموںوکشمیر کی معیشت، معاشرت، تجارت اور ثقافت یہاں تک کہ اب تعلیمی شعبے کو بھی مکمل طور پر بانجھ بناکر ایک دھماکہ خیز صورتحال کو جنم دینے کی مکروہ سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ سامراجی قوتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے نوآبادیاتی علاقوں میں تمام شعبہ ہائے زندگی کو تہس نہس کرکے رکھ دیتے ہیں۔

سید علی گیلانی اور تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے اپنے بیانات میں دختران ملّت کی سربراہ آسیہ اندرابی اورفہمیدہ صوفی سمیت انکی دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اگریہ سمجھتا ہے کہ کشمیریحریت پسند خواتین کی گرفتاریوں سے ان کے بلند حوصلوں کو توڑا جاسکتا ہے تو اسے اپنی ذلت آمیز شکست سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔

انہوں نے آسیہ اندرابی کے بلند حوصلوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جابر انتظامیہ کو ایک ایسی خاتون کو بار بار گرفتار کرنے سے کچھ حاصل ہوگا جن کے شوہر ڈاکٹر محمد قاسم گزشتہ تیس برس سے عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔انہوںنے دختران ملّت کی ارکان کی گرفتاریوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حقوق انسانی کے عالمی اداروں سے اس کا سنجیدہ نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

حریت رہنمائوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی کی اہلیہ کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ مرحومہ نے رواں تحریک آزادی کیلئے گرانقدر خدمات انجا م دی ہیں ۔ انہوںنے غلام محمد صفی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ نے تحریکی ارکان کی حوصلہ افزائی میں کبھی کوئی پس وپیش نہیں کیا۔سیدعلی گیلانی اور محمد اشرف صحرائی نے غلام نبی صفی کے برادر نسبتی پروفیسر غلام محمد بٹ اور اُن کے جملہ لواحقین کے ساتھ بھی تعزیت کا اظہار کیااور مرحومہ کی بلندی درجات کیلئے دعا کی ۔