پاکستان ہر سال تقریباً285ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کر تا ہے

پاکستان خوردنی تیل کی کل ضرورت کا تقریباً 14فیصد خود ، 86فیصد کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے درآمد کر تا ہے

منگل اپریل 13:44

پاکستان ہر سال تقریباً285ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کر تا ہے
فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پاکستان خوردنی تیل کی کل ضرورت کا تقریباً 14فیصد خود پیدا کرتا ہے جبکہ باقی 86فیصد حصہ کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے درآمد کیا جاتا ہے۔ ہرسال پاکستان تقریباً285ارب روپے کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے جوکہ ملکی معیشت پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار عبدالغفور ڈائریکٹر کوآرڈینیشن پنجاب نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری منصوبہ تل اور آئل سیڈ کراپس 2018-19 کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس سے چیئرمین پلانٹ بریڈنگ اینڈ جنییٹکس ڈاکٹر حفیظ احمد صداقت، محمد آفتاب ڈائریکٹر آئل سیڈ ، ڈاکٹر محمد اصغر ، سبجیکٹ سپیشلسٹ گوجرانوالہ منیر احمد چوہان ڈپٹی ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ فیصل آباد ، طارق محمود آئل سیڈباٹنسٹ،عباس علی گلِ اسسٹنٹ اگرانومسٹ اور قمر یوسف راحیل اسسٹنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ فلمز ریسرچ انفارمیشن یونٹ فیصل آباد کے علاوہ نیاب، بنجی ، این اے آرسی اور ایوب ریسرچ کے زرعی سائنسدانوں نے بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

قبل ازیں محمد آفتاب ڈائریکٹر آئل سیڈ نے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہمارے ملک میں تیل پیدا کرنے والی روایتی فصلیں رایا، سرسوں اور توریا پیدا وار کے لحاظ سے کپاس کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں کینولا یا میٹھی سرسوں، سرسوں کی ایک ایسی قسم ہے جس کے تیل کا معیار عام طورپر اگائی جانے والی سرسوں سے انسانی صحت کے لیے بہتر ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تل کم دورانیہ کی اہم تیل دار فصل ہے اس کے بیجوں میں 50فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی اور تقریباً22فیصد سے زیادہ پروٹین پائی جاتی ہے یہ انسانوں اور مویشیوں کی بہترین غذا ہے انہوں نے بتایا کہ تلوں کا بیج تیل ادویات سازی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ تلوں کا بیج بیکری کی مصنوعات میں بھی کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔

گزشتہ سال کے پیداواری منصوبہ تل 2017-18اور پیداواری منصوبہ آئل سیڈ کراپس 2017-18کے مسودات کو چند ضروری ترامیم کے بعد منظور کرلیا گیا