نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا آؤٹ سورس نہ ہونا افتتاح میں رکاوٹ

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل اپریل 13:23

نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا آؤٹ سورس نہ ہونا افتتاح میں رکاوٹ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 اپریل 2018ء) : نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا آؤٹ سورس نہ ہونا اس کے افتتاح میں رکاوٹ بن گیا۔قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اربوں روپت کی مالیت سے بنائے جانے والے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کے افتتاح کی تاخیر کی وجوہات تعمیراتی کام اور دفاتر کا تیار ہونا نہیں بلکہ کچھ اور ہی ہے۔ وفاقی حکومت نے 105 ارب روپے کی لاگت سے نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کی تعمیر تو مکمل کر لی لیکن ائیر پورٹ کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے کسی بھی ائیر لائن نے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔

صرف ترکی کی ایک کمپنی نے ٹینڈر بھرا، سول ایوی ایشن حکام نے ائیر پورٹ بھاری نقصان میں آؤٹ سورس کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کی خواہش ہے کہ اسلام آباد ائیر پورٹ کو افتتاح سے قبل آؤٹ سورس کر دیا جائے۔

(جاری ہے)

سول ایوی ایشن حکام نے اسلام آباد ائیر پورٹ کو آؤٹ سورس کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا جس میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن صرف ترکی کی ایک کمپنی ٹی اے وی نے اسلام آباد ائیر پورٹ حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی اور ٹینڈر بھرا۔

ذرائع نے بتایا کہ ٹی اے وی کمپنی نے اپنی رپورٹ سول ایوی ایشن حکام کو پیش کی جس میں سال لے منافع میں سے 5 فیصد منافع دینے کی دستاویزات جمع کروائیں ۔ ان دستاویزات کے مطابق تمام دکانوں سے لے کر مسافروں کو خدمات کی فراہمی کی ذمہ داری ہو گی اس کے بدلے میں 5 اعشاریہ 5 فیصد سالانہ سول ایوی ایشن حکام کو ادائیگی کرے گی ۔ دستاویزات کی جانچ پڑتال میں حیران کن طور پر یہ بات سامنے آئی کہ سول ایوی ایشن نے ائیر پور ترکی کی کمپنی کو آؤٹ سورس کرنے سے قبل پاکستان کی مشہور آڈٹ کمپنی کی خدمات حاصل کیں اور انہیں تمام دستاویزات فراہم کیں اور تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی کہ کیا ان شرائط پر ائیر پورٹ کو آؤٹ سورس کر سکتے ہیں۔

سول ایوی ایشن حکام اسلا آباد ائیر پورٹ کو 34 فیصد سالانہ منافع پر آؤٹ سورس کر سکتے ہیں، اگر اس میں سے کم میں آؤٹ سورس کیا گیا تو سول ایوی ایشن کو نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔