نیب تحقیقات کرے کہ چیف جسٹس کو پہلے سیکرٹری قانون اور پھر جج کیسے بنایا گیا۔نوازشریف

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اپریل 13:37

نیب تحقیقات کرے کہ چیف جسٹس کو پہلے سیکرٹری قانون اور پھر جج کیسے بنایا ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 اپریل۔2018ء) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ’ ’ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ گاﺅں گاﺅں پھیل چکا ہے اور اب یہ معاملہ نہیں رکے گا۔ احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ یہ اکیسویں صدی ہے، اب آزادی اظہار کو دبایا نہیں جاسکتا اور کسی کی زبان بند نہیں کی جاسکتی، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ایسا کیا جاسکتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے کہ کبوتر اپنی آنکھوں کو بند کرلے۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح سے معاملہ نہیں چلے گا، قوم حساب مانگ رہی ہے اور مانگے گی، آپ جو مرضی کرلیں اور کہہ دیں، پھر یہ توقع کریں کہ دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں آئے گا، جواب آئے گا، صرف نوازشریف سے نہیں آئے گا بلکہ ملک کے 22 کروڑ عوام کی طرف سے آئے گا، جو اب کسی طور پر اس قسم کی پابندیوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کیا پاکستان کے محروم لوگوں کو انصاف مل رہاہے، کس طرح سے لوگ مقدمات کا سامنا کرتے ہیں، ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے، وہ مقدمہ لڑنے کے لیے جائیدادیں بیچ دیتے ہیں کیا ان کی داد رسی ہورہی ہے؟نواز شریف نے کہا کہ بیوروکریسی، سیاستدانوں، وزیراعلیٰ اور کابینہ کا کام انہیں کرنے دیں، ان کے کاموں میں دخل دینے کی بجائے اپنا کام کریں۔

انہوں نے کہا کہاگر آپ کے پاس کوئی شکایت آتی ہے تو اس کا نوٹس لیں اگر کوئی فریاد لے کر آتا ہے اس کا نوٹس لیں، آپ خود کیسے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں علم تھا کہ نیب مارشل لا کا قانون ہے لیکن غلطی یہ ہے کہ اس کو ختم نہیں کرسکے نوازشریف نے مطالبہ کیا کہ نیب تحقیقات کرے کہ چیف جسٹس کو پہلے سیکرٹری قانون اور پھر جج کیسے بنایا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے خلاف جس طرح کے کیسز بنائے گئے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اربوں کھربوں کا الزام لگایا گیا لیکن آج تک کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہوسکی، اللہ تعالیٰ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کرتا جارہا ہے، لندن فلیٹس ہم نے قومی خزانے سے نہیں خریدے اگر ہم نے کرپشن کے ذریعے مال بنا کر اثاثے بنائے تو پھر الزام ثابت بھی ہونے چاہئیں اور جب کرپشن کا کوئی معاملہ دور دور تک نہیں تو یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ایساکچھ نہیں ہونے دوں گاجوقوم کے مفادکےخلاف ہو، جس طرح کیسز بنائے گئے تاریخ میں کسی کیخلاف نہیں بنے، اللہ ہمیں تمام الزامات سے سرخرو کرتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب اس بات پرمتفق ہیں عدلیہ میں ریفارمز ہونی چاہئیں، عدلیہ ہماراکس طرح خیال رکھ رہی ہے8ماہ سے سب کے سا منے ہے۔۔نواز شریف نے کہا کہ علم تھا نیب مارشل لا کا قانون ہے لیکن غلطی ہوئی ختم نہیں کرسکے، لندن فلیٹس ہم نے قومی خزانے سے نہیں خریدے، ہم نے کرپشن سے مال بناکر اثاثے بنائے تو الزام ثابت کریں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں شورکیا جارہا تھا ظاہر شاہ نئے ثبوت لائے ہیں، بجلی بلوں اورلینڈ رجسٹری میں بھی نہ میرانہ بھائیوں کا نام ہے۔۔مریم نواز نے کہا کہ کہا گیا نوازشریف سے سیکورٹی واپس لینے کا نہیں کہا لیکن ہمارے گھرسے کیمرے، بیریئرز اور سیکورٹی واپس لے لی گئی۔