مشاورت کے ساتھ نگراں سیٹ اپ آنا چاہیے ،ْعمران خان

منگل اپریل 14:42

مشاورت کے ساتھ نگراں سیٹ اپ آنا چاہیے ،ْعمران خان
لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کان نے کہا ہے کہ مشاورت کے ساتھ نگراں سیٹ اپ آنا چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 2013 میں مک مکا کر کے نگراں حکومت لائی گئی تھی جس نے دھاندلی شدہ الیکشن کروایا۔۔عمران خان نے کہا کہ اس بار مشاورت کے ساتھ نگراں سیٹ اپ آنا چاہیے۔اس سے قبل برطانوی اراکین پارلیمان سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خوشگوار قرار دینا ممکن نہیں، امریکا عالمی طاقت ضرور ہے مگر ہمارے نکتہ نظر کو سمجھنا ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ امریکا کو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان کے سر ڈالنے کا کوئی حق نہیں، امریکا کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور معاملات کی مناسب تفہیم پر استوار ہونے چاہئیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اہم کردار کی استعداد رکھتا ہے۔ان کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی موجودگی میں مسئلہ کشمیر کے حل میں کامیابی کی قابل ذکر توقع نہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ سپہ سالار جمہوریت کی پشت پناہی کررہے ہیں، تاریخ کا اہم موڑ ہے کہ عدلیہ آزادی سے اپنا آئینی کردار نبھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانوں کی ترقی پر وسائل خرچ کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تعلیم پر خصوصی توجہ اور محنت کی ضرورت ہے۔۔عمران خان کے مطابق مدارس میں زیرِ تعلیم بچے ہمارے ہیں جنہیں اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوںنے کہا کہ فراہمی روزگار کا انتظام میری نگاہ میں اہم ترین ذمہ داری ہے، اپنے 100 روزہ منصوبے میں فراہمی روزگار کو کلیدی حیثیت دیں گے۔۔عمران خان نے کہا کہ 29 اپریل کو مینار پاکستان سے ملک گیر انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔۔تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ دنیا بھر میں بسنے والے 70 لاکھ پاکستانی حقیقی اثاثہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا سازگار ملا تو سی پیک سے بڑی سرمایہ کاری آئے گی، برطانیہ اور پاکستان فطری طور پر کاروباری شراکت دار ہیں۔۔عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضے ملکی معیشت پر سب سے بڑا بوجھ ہیں، ان کی ادائیگی کے لئے ہم نے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔