و زیر بلدیات کا لاہور کے 172 واٹر فلٹریشن پلانٹس بارے شکایات پرمحکمہ سے رپورٹ طلب

سیکر ٹری بلدیات، چیف انجینئراور ڈا ئریکٹر جنرل کی سر براہی میں چیکنگ ٹیمیں تشکیل

منگل اپریل 15:50

لاہور۔24 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) صوبائی و زیر بلدیات محمد منشاء اللہ بٹ نے لاہور کے تمام واٹر فلٹریشن پلانٹس بارے موصول ہونے والی شکایات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے محکمہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس سلسلے میںوزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر سیکر ٹری بلدیات، چیف انجینئراور ڈا ئریکٹر جنرل کی سر براہی میں ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

وزیر بلدیات نے و اٹر فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی و چیکنگ اور عوام کو باقاعدگی سے پینے کے مصفاء پانی کی فراہمی نہ ہونے پر تمام بلدیاتی افسران و اہلکاران کے خلاف سخت ایکشن لینے کے لئے بھی سیکر ٹری بلدیات کو ہدایت جاری کر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور بھر میں 172فلٹریشن پلانٹس تنصیب کئے گئے ہیںجن کی نگرانی پر اہلکاران تعینات ہیں جبکہ بلدیاتی افسران کو خصوصی ہدایات دی ہوئی ہیں کہ ان کی نگرانی اور چیکنگ کا عمل متواتر کریں مگر اس عمل میں کوتاہی پائی گئی اور عوام کو بھی پریشان کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری بلدیات کو اس سلسلے میں پیڈا ایکٹ کے تحت ایسے افسران اور اہلکاران کے خلاف کاروائی کا حکم دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے خطیر رقم کے ساتھ صوبہ بھر میں خصوصا لاہور بھر میں پینے کے صاف پانی مہیا کرنے کے واٹر فلٹریشن پلانٹس لگوائے تاکہ لو گوں کو مختلف بیماریوں سے بچایا جاسکے، ان واٹر فلٹریشن پلانٹس کے نصب ہونے کے بعد کسی افسر واہلکار نے اس کے ماحول میں صفائی ستھرائی اور بہتر سروس کی فراہمی پر کوئی توجہ نہ دی جس کی وجہ سے فلٹریشن پلانٹس لاوارث و بے یار ومدد گارہو گئے۔

انہوں نے صوبہ بھر کے تمام چیئرمین و وائس چیئر مین اور دیگر بلدیاتی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے علاقہ میں تنصیب شدہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی چیکنگ کریں اور کسی بھی شکایت کا فوری ازالہ کریںاور رپورٹ حکومت کو لازمی بھجوائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس سلسلہ میں اچانک دورہ کریں گے اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف موقع پر ایکشن لیں گے ۔