سزا کے خلاف متحدہ کے ٹارگٹ کلر سعید بھرم کی اپیل پر پراسیکیوٹر رینجرز سے مجرم کا کرمنل ریکارڈ طلب

منگل اپریل 16:53

سزا کے خلاف متحدہ کے ٹارگٹ کلر سعید بھرم کی اپیل پر پراسیکیوٹر رینجرز ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے حقیقی کے کارکن کے مقدمہ قتل میں سزا کے خلاف متحدہ کے ٹارگٹ کلر سعید بھرم کی اپیل پر پراسیکیوٹر رینجرز سے مجرم کا کرمنل ریکارڈ طلب کرلیا۔ دو رکنی بینچ کے روبرو حقیقی کے کارکن کے مقدمہ قتل میں سزا کے خلاف متحد کے ٹارگٹ کلر سعید بھرم کی اپیل کی سماعت ہوئی۔ وکیل صفائی خواجہ نوید نے دلائل دیتے ہوئے مجرم کا اقبالی بیان پڑھ کر سنایا۔

خواجہ نوید نے دلائل میں کہا کہ میرے موکل کے بیان کے مطابق سندھ سیکریٹریٹ، پولیس ہیڈ آفس گارڈن پر حملوں اور وکلا سمیت متعدد افراد کے قتل کا اعتراف بھی کیا ہے۔ دہشتگردی کی ہدایت ندیم نصرت، فاروق ستار،، میئر کراچی وسیم اختر، حیدر عباس رضوی محمد انور اور دیگر نے جاری کیں۔

(جاری ہے)

2005، اور 2006 میں محمد انور نے کال کر کے کہا الطاف حیسن نے اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے ٹارگٹ ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا۔

صولت مرزا، اجمل پہاڑی و دیگر ٹارگٹ کلنگ کے ہمرا شہر میں متعدد ٹارگٹ کلنگ جلاو گھیرا کرکے شہر میں خوف و ہراس پھیلانے کے اقدامات کئے۔ خواجہ نوید نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ میرے موکل سعید عرف بھرم پر سوائے کینڈی کے قتل کے سارے الزامات ڈال دیئے گئے۔ 90 دن رینجرز کی حراست میں رکھا گیا اور کسی قسم کی کوئی شہ برآمد نہیں ہوئی۔ میرے موکل کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

پراسیکیوٹر ررینجرز نے موقف اختیار کیا کہ سعید بھرم کو انسداد دہشت گردی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد تھے سزا برقرار رکھی جائے۔ چاہتے ہیں ملزم کو کڑی سزا ملے۔ عدالت نے رینجرز کے وکلا سے استفسار کیا ملزم کے خلاف کتنے مقدمات ہیں۔ رینجرز وکلا کی جانب سے ملزم کے کرمنل ریکارڈ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 15 مئی تک ملتوی کردی۔ پولیس کے مطابق قتل کا مقدمہ یکم اکتوبر 2009 کو نبی بخش تھانے میں درج کیا گیا۔ مجرم سعید بھرم پر ایم کیو ایم حقیقی کارکن سید ابرار حسین کو قتل کرنے کا الز ام عائد ہے۔