اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ ،

2 رکنی بینچ کی لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش، معاملہ چیف جسٹس کو بھیجوادیا حکومت اپنا کام نہیں کررہی سرکاری اسکول تباہی کا شکار ہیں، صرف فیسوں کا معاملہ نہیں مکمل پالیسی کی ضرورت ہے ،عدالتی ریمارکس

منگل اپریل 16:53

اسکولوں کی فیسوں میں اضافہ ،
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سندھ ہائی کورٹ نے اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ سے متعلق 2 رکنی بینچ نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجوادیا۔ منگل کو سندھ ہائی کورٹ میں دو رکنی بینچ کے روبرو اسکولوں کی فیسوں میں 5 فیصد سے ذائد اضافہ سے متعلق بیکن ہاس، سٹی اور فانڈیشن پبلک اسکول سمیت 4 اسکولوں کے طلبا کے والدین کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے ریمارکس دیئے المیہ ہے کہ حکومت اپنا کام نہیں کررہی سرکاری اسکول تباہی کا شکار ہیں۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے یہاں صرف فیسوں کا معاملہ نہیں مکمل پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ والدین پر بوجھ نہ پڑے۔ اسکول کی رجسٹریشن سے ریگولیشن تک مکمل اور جامع پالیسی ہونی چاہئے۔

(جاری ہے)

جسٹس اشرف جہاں نے استفسار کیا رجسٹریشن اور ایڈمشن فیس کے نام پر دو دو لاکھ روپے لیے جاتے ہیں اس کا جواز ہی شبیر شاہ ایڈئشنل ایڈوکیٹ جنرل نے موقف اختیار کیا جون جولائی کی فیس نہ دینے کی خبر سن کر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے مگر سندھ ہائی کورٹ کے حکم میں جون جولائی کے فیس کا کوئی زکر نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا سندھ ہائی کورٹ نے اسکول فیس میں اضافہ سے متعلق شق کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔ فیصلہ کے مطابق 2001 کا اسکول ریگولیشن کا قانون موثر ہے۔ اسکول فیس میں اضافہ سے متعلق شق کو ختم کرکے نئی پالیسی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

نئی پالیسی بننے تک فیس میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ بیکن ہاس اور دیگر اسکولوں نے حکم امتناع کے باوجود پانچ فیصد سے ذائد اضافہ کے وائوچرز جاری کیے۔ بینکن ہاس کے وکیل کمال اظفر نے موقف اپنایا عدالتی فیصلہ میں حکومت کو اسکولز کی مشاورت سے نئی پالیسی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کا بینچ بھی پانچ فیصد سے ذائد اضافہ کو غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔

بینکن ہاس کے وکیل کمال اظفر نے موقف اختیار کیا کہ جسٹس سجاد علی شاہ کا حکم سپریم کورٹ کاالعدم قرار دے چکی ہے۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے بظاہر تو سپریم کورٹ نے درخواست از سر نو سماعت کیلئے واپس بھیجا، کاالعدم قرار نہیں دیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بیکن ہاس اسکول نے 5 فیصد سے ذائد فیس کا چالان دے دیا۔ 5 فیصد سے ذائد فیس وصولی توہین عدالت ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے فی الحال اسکولز 5 فیصد فیس وصول کریں اضافی فیس کی اجازت نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا اضافی فیس وصولی پر اسکولز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ وکلا کے موقف سننے کے بعد 2 رکنی بینچ نے لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کردی۔ لارجر بینچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔