لاہور ہائی کورٹ ،قردشی قرضے آڈٹ اور آڈیٹر جنرل کے اختیارات ختم کرنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

منگل اپریل 17:30

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے گردشی قرضے جاری کرنے سے قبل لازمی اڈٹ کرانے کی شق ختم کرنے اورآڈیٹر جنرل پاکستان کے اختیارات ختم کرنے کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

(جاری ہے)

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزاروں کے وکیل رانا محمد زاہد نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے گردشی قرضے جاری کرنے کے لئے آڈیٹر جنرل کے آڈٹ کے اختیارات کو سلب کر لیا،انہوں نے بتایا کہ قانون کے تحت گردشی قرضے جاری کرنے سے قبل آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانا لازمی تقاضا تھا،حکومت نے کنٹرولر جنرل اکاونٹس آرڈیننس 2001 میں سیکشن پانچ بی شامل کر کے آڈیٹر جنرل سیگردشی قرضوں کا آڈٹ کرانے کے اختیارات چھین لئے،انہوں نے کہا کہ نئی شق کو ماورائے آئین ہونے کی بناء پرکالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ آڈیٹر جنرل کا عہدہ آئینی ہے اور انہیں آئین کے تحت اختیارات حاصل ہیں جنہیں قانون کے تحت سلب نہیں کیا جاسکتا،انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت وزارت خزانہ کے احکامات پر صوبے کا اکاونٹ آفس بغیر آڈٹ کرائے گردشی قرضوں کے لئیلامحدود رقم جاری کر سکتا ہے،عدالتی حکم پر وفاقی حکومت اور دیگر فریقین نے جواب جمع کرا دیا،جس پرعدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔