لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو پے پروٹیکشن دے دی

منگل اپریل 17:30

لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو پے پروٹیکشن دے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے مستقل ہونے والے کنٹریکٹ لیکچرارزکو پے پروٹیکشن دے دی، عدالت نے مستقل کئے گئے لیکچررز کی تنخواہوں سے کنٹریکٹ الائونسز کی ہونے والی کٹوتیاں واپس کرنے کاحکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار ظر مقبول خان کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سال دو ہزار پانچ، چھ، سات اور نو میں تعینات ہونے والے کنٹریکٹ لیکچررز کو مستقل کرتے ہی حکومت پنجاب نے غیر قانونی طور پر ان کی تنخواہوں سے کنٹریکٹ الائونس کی کٹوتی شروع کر دی۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قوانین کے تحت حکومت سرکاری ملازمین کو دی جانے والی مراعات واپس نہیں لے سکتی۔

(جاری ہے)

انہوں نے آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ نے کنٹریکٹ سے مستقل ہونے والے ملازمین کی تنخواہوں سے ہونے والی کٹوتیاں غیر قانونی قرار دے رکھیں ہیں لہٰذا عدالت حکومت کے غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دے، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پرکنٹریکٹ لیکچرارز کی تنخواہوں کو پے پروٹیکشن دیتے ہوئے کی جانے والی کٹوتیاں واپس کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے وزارت خزانہ پنجاب اور اکائونٹنٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سے کٹوتیاں نہ کرنے اور تنخواہوں میں معمول کے ہونے والے اضافہ کو کو تنخواہ کا حصہ بنانے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔