نامور فلمی ہدایتکار حسن طارق کی برسی خاموشی سے گزر گئی

منگل اپریل 16:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پاکستان کے نامور فلمی ہدایتکار حسن طارق کی 36ویں برسی گزشتہ رو خاموشی سے گزر گئی ۔ ان کی برسی کے حوالے سے کوئی بھی تقریب منعقد نہ ہو سکی ۔حسن طارق 1927 میں بھارت کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز ہدایت کار جعفر ملک کی فلم سات لاکھ سے بطور معاون ہدایت کار کیا۔اگلے برس بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم نیند ریلیز ہوئی، جس نے بطور ہدایت کار ان کے نام کو بڑا مستحکم کیا۔

اس فلم کی کامیابی کے بعد حسن طارق نے 40کے لگ بھگ فلموں کی ہدایات دیں جن میں سے بیشتر پاکستان کی فلمی صنعت کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ بنجارن، شکوہ، قتل کے بعد، کنیز، مجبور، دیور بھابی، بہن بھائی، میرا گھر میری جنت، ماں بیٹا، پاک دامن، انجمن، وحشی، تہذیب، امرا جان ادا، پیاسا، بہشت، ثریا بھوپالی، اک گناہ اور سہی،بیگم جان، سنگدل اور سیتا مریم مارگریٹ ان کی چند ایسی ہی فلموں کے نام ہیں۔

(جاری ہے)

ان فلموں میں سے دو فلمیں بہن بھائی اور انجمن پر انہیں بہترین ہدایت کار کا نگار ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔حسن طارق اپنی شادیوں کے حوالے سے بھی خاصے معروف رہے۔ خاندان میں اپنی پہلی شادی کے علاوہ انہوں نے اداکارہ نگہت سلطانہ، مشہور رقاصہ ایمی مینوالا اور مشہور اداکارہ رانی سے شادی کی تھی۔حسن طارق 24اپریل 1982 کو وفات پاگئے۔ انہیں لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔۔