سرسید یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام بائیومیڈیکل ریسرچ کے تاریخی پہلوئوں اور مستقبل کے امکانات پر سیمینار کا انعقاد

منگل اپریل 18:07

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ اور بائیو انفارمیٹکس کے زیراہتمام ’’ بائیومیڈیکل ریسرچ کے تاریخی پہلوئوں اور مستقبل کے امکانات ‘‘کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مہمان مقرر، جرمن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جوکھم ڈبلیو ہرزیگ نے اپنا مقالہ پیش کیا۔

اس موقع پر جرمن یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹرہرزیگ نے کہا کہ بائیومیڈیکل ریسرچ کی ترقی اور اس کے روشن مستقبل کے لیے عالمی اشتراک ضروری ہے۔انھوں نے صدیوں تک تجربات کی بنیاد پر تحقیق کو ممکن نہ بنانے کی وجوہات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سائنس کی ترقی کے لیے روایتی سوچ کو بدلنا ہوگا اور تحقیق کو تجربات کا پابند بنانا ہوگا۔

(جاری ہے)

تاہم آج کے اس جدید دور میں تحقیق میں تجربات کو اہمیت دی جارہی ہے اور تجرباتی مراحل سے گزرنے والا تحقیقی کام اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

ڈاکٹرہرزیگ نے کہا کہ سترہویں صدی میں دانشوروں نے مافوق الفطرت اور معجزاتی کرشموں کے رجحانات کو معاشرے سے ختم کیا اور مفروضوں کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھنے کی روایت کا آغاز کیا۔۔دانشوروں نے ایسے سائنسی خیالات ونظریات کو فروغ دیا جسے تجربات کی کسوٹی پر آسانی سے پرکھا جاسکتا ہے۔نئی ایجادات اور نئے ثبوتوں کی روشنی میں مفروضوں میں ترمیم و تنسیخ کا عمل جاری رہتا ہے۔قبل ازیں بائیوانفارمیٹکس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایم اے حلیم نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ بائیومیڈکل کا شعبہ تیزی سے ترقی کے منازل طے کر رہا ہے اور پاکستان میں بھی اسے بھرپور پزیرائی مل رہی ہے۔