ماں اور بچے کی صحت کیلئے قائم بنیادی صحت یونٹ کام کر رہے ہیں،بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،مریم اورنگزیب

انسداد پولیو کے سلسلے میں ارکان پارلیمنٹ کا کردار نہایت موثر رہا ہے،بنیادی صحت کے یونٹ کی کارکردگی کو نجی شعبے کے اشتراک سے بہتر کرکے اچھے نتائج آئیں گے، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،وژن 2025 کے اہداف بھی پائیدار ترقی سے منسلک ہیں ، وزیر مملکت کا ماں اور بچے کی صحت بارے ’امید سے آگے‘ کانفرنس سے خطاب

منگل اپریل 18:19

ماں اور بچے کی صحت کیلئے قائم بنیادی صحت یونٹ کام کر رہے ہیں،بچوں میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی پوری دنیا میں اہمیت کی حامل ہے، ماں اور بچے کی صحت کیلئے قائم بنیادی صحت یونٹ کام کر رہے ہیں،بنیادی مراکز صحت بڑے ہسپتالوں کیساتھ منسلک ہیں،بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،انسداد پولیو کے سلسلے میں ارکان پارلیمنٹ کا کردار نہایت موثر رہا ہے،بنیادی صحت کے یونٹ کی کارکردگی کو نجی شعبے کے اشتراک سے بہتر کرکے اچھے نتائج آئیں گے، پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،وژن 2025 کے اہداف بھی پائیدار ترقی سے منسلک ہیں ۔

وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے یہ بات منگل کو ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے ’’ امید سے آگے‘‘ کے عنوان سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

وزیر مملکت نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی پوری دنیا میں اہمیت کی حامل ہے، خوراک کمی اہم مضمون ہے اور اس پر توجہ بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی اس حوالے سے تحقیق انتہاء ضروری ہے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے زریعے اس پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں غذائی قلت کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،ارکان پارلیمنٹ کو پولیو اور دیگر مسائل کے حل کیلئے کردار دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہر رکن پارلیمنٹ کو اپنے حلقے کے مسائل سے آگاہی کا ہونا لازمی ہے۔۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ انسداد پولیو کے سلسلے میں ارکان پارلیمنٹ کا کردار نہایت موثر رہا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کیلئے قائم بنیادی صحت یونٹ کام کر رہے ہیں،بنیادی مراکز صحت بڑے ہسپتالوں کیساتھ منسلک ہیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ بنیادی صحت کے یونٹ کی کارکردگی کو نجی شعبے کے اشتراک سے بہتر کرکے اچھے نتائج آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم میں میڈیا کا کردار اہم ہے،آگاہی مہم کیلئے ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ دیہاتی علاقوں میں خوراک کے حوالے سے معلومات کا فقدان ہے،دیہاتی علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے آگاہی کا ہونا بہت ضروری ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ موبائل فون کے ذریعے بھی آگاہی مہم مؤثر انداز میں چلائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حوالے سے اہداف کا حصول اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے،،پارلیمنٹ کے کردار کے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ وژن 2025 کے اہداف بھی پائیدار ترقی سے منسلک ہیں ۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جہاں پارلیمنٹ میں ایس ڈی جی سیکرٹریٹ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے پارلیمانی ٹاسک فورس بنائی گئی ہے،پچھلی3سال میں پارلیمانی ٹاسک فورس نے کئی اقدامات اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایاہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی ٹاسک فورس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہے۔