چوہدری نثار نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ختم کئے ،ْسپریم کورٹ کا استفسار

یرداخلہ اور وزارت داخلہ سے ہدایات لے کرآگاہ کریں کہ پاکستانی قیدی کب واپس آئیں گے ،ْ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم

منگل اپریل 18:32

چوہدری نثار نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ختم کئے ،ْسپریم ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا ہے کہ سابق وزیرِداخلہ چوہدری نثار نے کس اختیار کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ختم کئے۔منگل کو سپریم کورٹ میں تھائی لینڈ اور سری لنکا میں پاکستانی قیدیوں کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کی کہ سری لنکا میں 87 اور تھائی لینڈ میں 83 پاکستانی قید ہیں، دبئی میں 2 ہزار 700 ، برطانیہ میں 423 اور یمن میں بھی متعدد پاکستانی قید ہیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کے بعض ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ہیں، پاکستانی قیدی سری لنکا،، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، لوگ وہاں جیلوں میں پڑے مررہے ہیں تھائی لینڈ کے سفیر نے ہمیں بتایا کہ پاکستانی وہاں مررہے ہیں، مجھے سب سے زیادہ شکایات چین سے مل رہی ہیں، لیکن دوسری جانب حکومت پاکستان نے بہت سے ممالک کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے ختم کردیے ہیں، چوہدری نثار نے وزیر داخلہ ہوتے ہوئے کس اختیار کے تحت معاہدے ختم کئے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کہاں ہیں ۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وزیرداخلہ اور وزارت داخلہ سے ہدایات لے کرآگاہ کریں کہ پاکستانی قیدی کب واپس آئیں گے، ایک ماہ کے اندر بیرون ملک جیلوں میں قید تمام پاکستانیوں کو واپس لے کر آئیں۔