سندھ ڈاکٹرز اتحاد کا قومی ادارہ امراض قلب سے مبینہ طور پر 100سے زائد ڈاکٹرز کو نکالنے پر تشویش کا اظہار

منگل اپریل 19:31

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) سندھ ڈاکٹرز اتحاد نے قومی ادارہ برائے امراض قلب کی انتظامیہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں مبینہ طور پر 100 سے زائد ڈاکٹرز کو ادارے سے نکالنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق سندھ ڈاکٹرز اتحاد کے صدر محمد علی تھلو نے خط میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ادارے کی انتظامیہ نے کانٹریکٹ اور دیگر ڈاکٹرز کو بغیر کسی وجہ کے ملازمتوں سے برخواست کر دیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل پروفیشن ایک فل ٹائم سروس جاب ہے اور ڈاکٹرز زندگی کا بہترین حصہ میڈیکل ایجوکیشن اور ملازمت کے حصول کے لیے وقف کر دیتا ہے مگر ان کو اس ملازمت کے بعد کچھ عرصہ میں ملازمت سے برخواست کر دیا جانے اس کی جگہ نئے ڈاکٹرز کو بھرتی کردیا جو کہ خلاف قانون ہے کیونکہ ایک سال ملازمت کے بعد ڈاکٹرز خود بخود مستقل ہو جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

خط میں کہا گیاہے کہ ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے ان کے مسائل بہتر انداز میں سمجھتے ہیں ملازمت سے برطرفی کے بعد دوسری جگہ تعیناتی ایک مشکل عمل ہے۔انہوںنے اپیل کی کہ ڈاکٹرز کو بحال کیا جائے یا پھر فی کس ڈاکٹر کو 2 کروڑروپے دیے جائیں ۔دوسری جانب انتظامی ڈاکٹر ملک حمیداللہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ڈاکٹرز کو برخواست نہیں کیا گیا بلکہ ٹرینی ڈاکٹرز کورس مکمل کرنے کے بعد خود سے چلے جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :