بھارت میں ریپ کے بڑھتے واقعات، لڑکیاں دفاع کیلئے اقدامات پر مجبور

ریپ کے واقعات پر خواتین نے خود کا دفاع کرنے کے لیے کلاسز لینا شروع کردیں

منگل اپریل 19:47

بھارت میں ریپ کے بڑھتے واقعات، لڑکیاں دفاع کیلئے اقدامات پر مجبور
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) بھارت میں بچیوں کے ساتھ ریپ کے واقعات میں اضافے نے لڑکیوں کو خود کے دفاع کے لیے کلاسز لینے پر مجبور کردیا ہے۔تاہم خواتین کی جانب سے ایک تاثر یہ بھی سامنے آرہا کہ بھارت میں لڑکیوں کو تو یہ بتایا جاتا کہ وہ ریپ کا شکار نہ ہوں لیکن لڑکوں کو یہ نہیں سمجھایا جاتا کہ انہیں ریپ نہیں کرنا۔برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارت سے متعلق ایک رپورٹ میں بتایا کہ بھارت میں ریپ کے بڑھتے واقعات کا حل دہلی میں ایک ریلی کے دوران بتایا گیا، جہاں بھارتی خواتین کی جانب سے کہا گیا کہ حکومتی وعدوں کے باوجود ہم نے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کلچر کے بارے میں بولنا ہوگا۔

خواتین کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردی میں رہ رہے ہیں اور ایک خاتون ہونے کے ناطے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت مشکل ہے، ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ریپ نہ کرنے کے بجائے یہ کہا جاتا ہے کہ ریپ کا شکار مت ہونا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے بعد ہماری کردار کشی کی جاتی اور ہم اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ باہر نہیں جاسکتے، ہم محفوظ نہیں ہیں اور ہم ایسی دنیا چاہتے ہیں، جہاں ہمیں تحفظ مل سکے۔

آئی ٹی وی کے مطابق جب ان کی ٹیم بھارت پہنچی تو اندور میں پولیس کی جانب سے ایک ریپ کے کیس کی تصدیق کی گئی اور 4 ماہ کی ایک بچی کو اغوا کے بعد بری طرح جنسی تشدد کا نشانہ بنا گیا اور اسے قتل کردیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بچی کی خون میں لت پت لاش کو اس جگہ سے چند میٹر کے فاصلے پر پھینک دیا گیا، جہاں سے اسے اغوا کیا گیا تھا۔اس سے قبل کشمیر میں بھی ایک 8 سالہ لڑکی آصفہ بانو کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور اس واقعے کے بعد بھارت میں مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق آصفہ بانو کا متعدد مرتبہ ریپ کیا گیا تھا اور اسے ایک مندر میں 8 ہندو لوگوں نیسفاکانہ طریقے سے قتل کرکے پھینک دیا تھا اور اسے اس لیے نشانہ بنایا گیا تھا کہ کیونکہ وہ مسلمان تھی اور ایک ایسی برادری سے تعلق رکھتی تھی جو اپنی زمین کا حصول چاہتے ہیں۔اس واقعے نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی بولنے پر مجبور کردیا تھا اور ان کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 12 برس تک کے بچوں کا ریپ کرنے والے فرد کے لیے موت کی سزا متعارف کرائی جائے گی۔

بھارت میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات پر ابتدائی طور پر حکمران جماعت بات کرنے سے گریزاں نظر آئی، تاہم بعد ازاں حکمران جماعت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جو کچھ بتایا جارہا وہ ایک بڑا پروپیگینڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت خواتین کی حمایت کے لیے بہت کام کر رہا اور انہیں برابری کے حقوق فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی لیکن یہ بہت شرمناک بات ہے کہ کئی صدیوں سے وہ اس طرح کے جرائم کو روک نہیں سکے۔

دوسری جانب بھارت میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات پر خواتین نے خود کا دفاع کرنے کے لیے کلاسز لینا شروع کردی ہیں تاکہ وہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ ریپ کا اگلا شکار وہ نہیں ہوں گی۔اس حوالے سے کلاس میں موجود ایک لڑکی کا کہنا تھا کہ یہ ہر خاتون کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ہر حملے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔