کھٹوعہ کی کمسن بچی کی آبرو ریزی اور قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہرے،جھڑپوں میں30افراد زخمی

منگل اپریل 19:50

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) کھٹوعہ کی کمسن بچی کی آبرو ریزی اور قتل کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں30افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ بارہمولہ اور گاندربل میں 80کے قریب طلبہ کو حراست میں لیا گیا۔ اسلام آباد(اننت ناگ) لکے لالچوک میں احتجاجی طلبہ اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا،جب طلبہ کھٹوعہ واقعے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

مختلف اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ قصبہ میں جمع ہوئے،جس دوران انہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے کھٹوعہ متاثرہ کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔چند نوجوانوں نے فورسز کی ایک گاڑی پر پتھراؤ کیا،جس کے بعد فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس اور پیلٹ کا استعمال کیا۔

(جاری ہے)

جھڑپوں میں وامق اعجاز نامی ایک نوجوان زخمی ہوا،جس کے جسم پر پیلٹ لگے۔

زخمی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔طرفین کے درمیان چینی چوک،اچھہ بل اڈہ،لالچوک اور دیگر نواحی علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ میں بھی فورسز اور طلبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کھنہ بل میں طلبہ نے کالج صحن میں حکومت مخالف نعرے بلند کئے۔ طلبہ جوں ہی کالج سے نکلنے کی کوشش کرنے لگے تو گیٹ کے باہر فورسز اہلکاروں نے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جس پر طلبہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

کھنہ بل میں افرا تفری مچ گئی اور آنا فانا دکانیں بند ہوگئیں۔اس دوران کالج انتظامیہ و طلبہ نے فورسز اہلکاروں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے کالج احاطے میں گھس کر کئی طلبہ و عملہ کو زد کوب کیا۔شلنگ و پتھراؤ کے سبب ایک طالب علم کا ہاتھ زخمی ہوا جبکہ کامرس پروفیسر غلام حسن ٹھوکر شل لگنے سے معمولی زخمی ہوگئے۔گورنمنٹ ہائیر اسکینڈری اسکول ڈورو و ڈگری کالج لارنو میں بھی واقع کو لے کر طلبہ نے پر امن احتجاج کیا۔

طلبہ نے کھریو چوک تک پر امن طور مارچ کیا جہاں بعد میں احتجاجی طلبا پر امن طور منتشر ہوئے ہیں۔ شوپیان میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کئے جس کے دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار افراد زخمی ہوگئے۔ طلبا نے سڑکوں پر ایک احتجاجی مارچ کیا جو کوچنگ سینٹروں کو بند کئے جانے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ طلبہ ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر پتھراو کیا۔

اسکے بعد ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس پر بھی پتھراو کیا گیاجس کے جواب میں پولیس فورسز نے شلنگ کی۔ پتھراو کے دوران دو طالب علموں سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ دکانداروں نے دکانوں کے شٹر نیچے کئے اور سڑکوں پر سے ٹرانسپورٹ جزوی طور رہا۔ادھر کمدلن شوپیان میں ایڈیشنل ایس پی کی گاڑی پر طلبہ نے پتھراؤ کے ساتھ ساتھ پیٹرول بم پھینکا جبکہ پنجورہ شوپیان میں نوجوانوں نے آرمی کی کیس پر گاڑی پر پتھراو کیا جسکے جواب میں گاڑی میں موجود فوجی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی تاہم کو نقصان نہیں ہوا۔

ضلع بانڈی پورہ کے صدر کوٹ میں گورنمنٹ ہائی اسکول ملہ پورہ میں زیر تعلیم طلبہ احتجاج کرتے ہوئے کمسن بچی کو انصاف فرہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی طلاب نے اپنے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارر اٹھا رکھے تھے،جن پر کمسن بچی کے حق میں مختلف نعرے درج کئے گئے تھے۔ اجس میں بھی گورنمنٹ ہائی اسکول میں زیر تعلیم طلبہ نے احتجاج کیا۔طلبا نعرہ بازی کر رہے تھے،جبکہ انہوں نے پلے کارڑ بھی اٹھا رکھے تھے۔

فیاض بخاری کے مطابق بارہمولہ میں گورنمنٹ بائز ہائر اسکنڈری اسکول کے طالب علموں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پرنکل کر زبردست نعرے بازی کی۔ فورسز اور طالب علموں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں ،جس کے بعد پولیس نے 70 طالب علموں کو گرفتار کیا۔ سوپور میں جامع قدیم ہائی اسکول میں زیر تعلیم طلبا کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پیر کی صبح اسکول کے قریب جمع ہوگئے اور سانحہ کٹھوعہ کیخلاف احتجاج کرنے لگے۔

طلبا نے بس اسٹینڈ تک مارچ کیا تاہم بس اسٹینڈ کے قریب پہنچنے پر یہاں پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں روکا اور آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ احتجاجی طلبا جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پہلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے۔ طرفین کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے طلبا کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور شلنگ کی۔