پرائیویٹ ایجوکیش نیٹ ورک خیبرپختونخوا کی کال پر مختلف نجی سکولز مالکان کے دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے

منگل اپریل 20:03

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) صوبائی حکومت کی جانب سے پرائیویٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام اور نجی سکولوں کے معاملات میں مداخلت کے خلاف پرائیویٹ ایجوکیش نیٹ ورک خیبرپختونخوا کی کال پر ہزارہ کے مختلف اضلاع میں نجی سکولز مالکان کی جانب سے دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کو بھی ہزارہ کے تمام اضلاع میں نجی تعلیمی ادارے بند رہے۔

نجی سکولز کے مالکان صوبائی حکومت سے پرائیویٹ سیکٹر کیلئے قائم ریگولیٹری اتھارٹی اور این جی اوز کا تسلط ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایبٹ آباد،، مانسہرہ، ہری پور، بٹگرام، کوہستان اور ضلع تورغر میں نجی سکول دوسرے روز بھی بند رہے۔ مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے ’’پن‘‘ رہنمائوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اعیار کے اشاروں پر نجی ایجوکیشنل سیکٹر پر این جی اوز مسلط کر کے ایک منظم سازش کے تحت پرائیویٹ سیکٹر کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

نجی تعلیمی اداروں کے مالکان پرائیویٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کسی بھی صورت میں تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، صوبائی حکومت کی ایماء پر نصاب سے اسلامی تعلیمات حذف گئے ہیں جس کا بنیادی مقصد ہماری آنے والی نسلوں کو اسلام سے دور کرنے کی سازش ہے، نصاب میں خلفاء راشدین اور دیگر اسلامی شخصیات و اکابرین کے مضامین کی جگہ انگریز وں کی مضامین شامل کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے جس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :