خیبرپختونخوامیں سینیٹ انتخابات کیخلاف پشاورہائیکورٹ میں درخواست دائر

آئین کے تحت وہ لوگ ایوان بالا کے ممبران بن سکتے ہیں جو دیانتدار، صادق وامین ہوں، ہارس ٹریڈنگ کرنے والے صادق وامین نہیں ہوسکتے اس لئے آرٹیکل62(1)F کے تحت ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ممبران کو نااہل اور ان انتخابات کوکالعدم قرار دیاجائے، درخواست گزار

منگل اپریل 20:18

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) خیبرپختونخوامیں سینیٹ انتخابات کیخلاف پشاورہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔ درخواست گزار گوہر خان نے موقف اپنایا ہے کہ ایوان بالا کے انتخابات کو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے کاروبار بنایا دیا گیا۔ اس ہارس ٹریڈنگ کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور سینیٹ انتخابات میں پیسے لینے اور دینے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔

(جاری ہے)

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت وہ لوگ ایوان بالا کے ممبران بن سکتے ہیں جو دیانتدار، صادق وامین ہوں، ہارس ٹریڈنگ کرنے والے صادق وامین نہیں ہوسکتے اس لئے آرٹیکل62(1)F کے تحت ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ممبران کو نااہل اور ان انتخابات کوکالعدم قرار دیاجائے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے جن ارکان پر رقوم لینے کا الزام ہے انہوں نے بھی عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویزخٹک پر الزام لگایا کہ ہے انتخابات میں امیدواروںکوٹکٹ دینے کیلئے بڑی رقوم وصول کی گئیں۔ درخواست میں چیئرمین سینٹ، الیکشن کمیشن اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت 10 افرادکوفریق بنایاگیاہے۔