چین پاکستان کو ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتا ہے، ہمارا مقصد پاکستانی عوام کی بہتر زندگی ہے، چینی سفیر

پاکستان بنیادی مفادات سے بالاتر ہوکر چین کی حمایت کرتا ہے، مشاہد حسین سید

منگل اپریل 20:27

چین پاکستان کو ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتا ہے، ہمارا مقصد پاکستانی ..
کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) پاکستان میں تعینات چینی سفیر یا جنگ نے کہاہے کہ چین پاکستان کو ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتا ہے، ہمارا مقصد پاکستانی عوام کی بہتر زندگی ہے، سی پیک کے سائنسی عمل درآمد کے ذریعے انفرا اسٹرکچر پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، مجھے امید ہے کہ ہماری مشترکہ کوششوں سے سی پیک کامیاب ہوگا اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مزید مضبوط ہوں گے جو دنیا کے لئے ایک مثال بنیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوکراچی میں ڈان میڈیا گروپ اور وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کے تعاون سے سی پیک سمٹ 2018 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔۔سی پیک سمٹ کے دوسرے روز چین کا نقطہ نظر کے عنوان سے ایک سیشن کابھی انعقاد کیا گیا، جس سے مختلف کاروباری شخصیات، پروفیسرز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

چینی سفیر نے کہاکہ گزشتہ 40 برسوں کے دوران چین نے ترقی کی اور اپنے سماجی نظام کو معیشت سے ملایا اور اسی چیز کو برقرار رکھتے ہوئے چین پورے خطے کی ترقی چاہتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ جب ہم پاکستان اور چین کے تعلقات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ دونوں ملک سچے دوست کے طور پر نظر آتے ہیں اور پاکستان واحد ملک ہے جو بنیادی مفادات سے بالاتر ہوکر چین کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تمام سرحدی تنازعات میں چین کی حمایت کرتا ہے اور دونوں ممالک کی اقتصادی طاقت مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہورہی ہے۔

مشاہدحسین سید نے کہاکہ چین خطے سے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے اور یہ عالمی سیاست میں ایک بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آئے گا۔انہوں نے کہاکہ چین کبھی بھی کسی تنازع میں ملوث نہیں رہا اور جب ہم پاکستان اور چین کے تعلقات کو دیکھتے ہیں ہمارا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ خطے کا استحکام ہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈان میڈیا گروپ کے سربراہ حمید ہارون نے کہاکہ ابھی تک چین اور سی پیک سے متعلق امور صرف سرکاری دفاتر اور بیجنگ میں زیر بحث رہے ہیں وہ قومی مباحثے کا حصہ نہیں بن سکے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تبدیلی ہمارے ملک میں آرہی ہے تو بہتر یہ ہے کہ معاشرہ اسے سمجھے اور ہمارا ملک ترقی کرسکے۔ سی پیک کا ایجنڈا خاص طور اقتصادی ہے لیکن اس کے معاشرتی اور سماجی ثمرات کے حصول کے لئے آواز اٹھانی پڑے گی۔