فافن نے پاکستان کی پہلی قبل از انتخاب طویل مدتی مشاہدہ رپورٹ جاری کردی

رپورٹ میں شامل انتخابی مشاہدے کی معلومات ملک بھر کے 130 ضلعوں سے جمع کی گئیں

منگل اپریل 20:59

فافن نے پاکستان کی پہلی قبل از انتخاب طویل مدتی مشاہدہ رپورٹ جاری کردی
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 اپریل2018ء) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے ملک بھر کے 130 ضلعوں میں سیاسی ماحول اورانتخابی قواعدو ضوابط پر عمل در آمد کے جائزے کیلئے قبل از انتخاب طویل مدتی مشاہدہ کاری سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔یہ سرگرمیاں فافن کی طرف سے عام انتخابات 2018 کی کثیر المراحل مشاہدہ کاری کا حصہ ہیں۔ گزشتہ روز جاری کردہ جنرل الیکشن 2018 اپڈیٹ 1 میں فافن نے جنوری 2018 سے مارچ 2018 کے درمیان اس کے طویل المدتی مشاہدہ کاروں (ایل ٹی اوز) کی طرف سے ریکارڈ کئے گئے مشاہدات کو مرتب کیا ہے۔

اس دستاویز کے اجرا کا مقصد الیکشن کمیشن آف پاکستان،، سیاسی جماعتوں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی تنظیموںاور شہریوں کو انتخابی اور سیاسی عمل سے متعلق غیر جانبدار اور قابل شہادت معلومات فراہم کرنا ہے۔

(جاری ہے)

مشاہدہ کاری کے اس عمل کا مقصد انتخابی قانون 2017 میں بیان کئے گئے تقاضوں کے مطابق آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور قابل احتساب ارتقا پذیر انتخابی عمل کیلئے اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔

انتخابی مشاہدہ کی یہ معلومات 130 تربیت یافتہ اور غیر جانبدار ضلعی کو آرڈینیٹرز نے 41 سیاسی جماعتوں کے 2001 انٹرویوز، 95 ضلعوں کی 33 سیاسی جماعتوں کی380 انٹرویوز اور 629 سیاسی اجتماعات بشمول 62 سیاسی جلوسوں، 294 جلسوں، 265 کارنر میٹنگز اور 8 دھرنوں کے براہ راست مشاہدہ کے ذریعے اکٹھی کی ہیں۔ مزید بر آں فافن نے سیاسی شخصیات، قبائل ، برادریوں اور پیشہ ورانہ گروہوں کی طرف سے مختلف پارٹیوں میں شرکت اور نئے سیاسی اتحادوں کی تشکیل کے 169 واقعات کوبھی دستاویزی شکل دی ہے۔

اس اپ ڈیٹ میں انتخابی مہم کے ماحول،سیاسی اجتماعات کے مقاصد اور تقسیم، ووٹر رجسٹریشن کے عمل سے متعلق سیاسی جماعتوں کی آرا، قومی شناختی کارڈ کی رجسٹریشن اور حد بندیوں کے عمل، ضلعی سطح پر سیاسی اتحادوں کی تشکیل بشمول ذات برادری اور پیشہ ورانہ گروہوں کے مابین ابھرتے ہوئے انتخابی اتحادوں سے متعلق معلومات اور تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔مزید برآں رپورٹ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظر ثانی شدہ پالیسی کے مطابق انتخابی فہرستوں میں پائے جانیوالے مردوں اور عورتوں کی تعداد کے فرق کے خاتمے کیلئے ملک بھر میں خواتین کے بطور ووٹر اندراج میں بے مثل اضافے کا بھی جازئزہ لیا گیا ہے۔ اتخابی مشاہدہ کاری کے نتائج کا تفصیلی تجزیہ منسلک رپورٹ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔